انتخابات کے التوا پر ہنگامہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقہ وڈھ میں مقامی حکومتوں کے ضمنی انتخابات ملتوی کرنے پر مظاہرین نے تحصیل ناظم اور نائب انتظامی افسر کے دفاتر کو توڑ پھوڑ کے بعد نذر آتش کردیا جبکہ قومی شاہراہ کو بھی بند کر دیا گیا۔ وڈھ کوئٹہ سے تین سو اسی کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور یہ سردار عطاءاللہ مینگل اور سابق وزیراعلی سردار اختر مینگل کا آبائی علاقہ ہے۔ وزیراعلی بلوچستان جام محمد یوسف اور انتظامیہ کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے وڈھ کے علاقے میں مقامی حکومتوں کے لئے ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس فیصلے پر مقامی سطح پر ایک گروہ مشتعل ہو گیا اور آج جمعہ کے روز اس گروہ نےاحتجاج کرتے ہوئے قومی شاہراہ کئی گھنٹے تک بلا ک کر دی۔ اس کے بعد مظاہرین جلوس کی صورت میں تحصیل ناظم کے دفتر پہنچے۔ اس عمارت میں نائب انتظامی افسر کا دفتر بھی ہے۔ مظاہرین نے یہاں توڑ پھوڑ کی اور بعد میں دفاتر کو نذر آتش کر دیا۔
وڈھ کے ضلعی انتظامی افسر ڈاکٹر عمر بابر نے بتایا کہ مظاہرین کی قیادت کرنے والے افراد کی شناخت ہوگئی ہے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ کارروائی بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے کارکنوں کی ہو سکتی ہے۔ اس علاقے میں ضمنی انتخابات کے حوالے سے لگ بھگ ڈیڑھ سو نشستوں پر انتخاب ہونا تھا اور بعض ذرائع کے مطابق یہاں حکومت کے حمایت یافتہ امیدواروں کی پوزیشن زیادہ مستحکم نہیں تھی جبکہ بی این پی مینگل گروپ کے امیدوار بہتر پوزیشن میں بتائے گئے ہیں۔ تاہم عمر بابر نے صرف اتنا تبصرہ کیا کہ حالات انتخابات کے لئے ابھی سازگار نہیں تھے۔ ’جب ایک نوٹیفکیشن پر اتنا ہنگامہ برپا ہو سکتا ہے تو انتخابات پر کیا ہوتا؟ تاہم انہوں نے کہا کہ یہاں انتخابات اسی صورت میں ہو سکتے ہیں جب بہتر حفاظتی انتظامات ہوں۔ صوبائی الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ انتخابی التوا کا یہ فیصلہ چیف الیکشن کمشنر کے دفتر اسلام آباد سے ہوا ہے جنہیں صوبائی اور ضلعی حکومتوں نے انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائدین سردار اختر مینگل، ثناء بلوچ اور دیگر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ قائم نہ ہو سکا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||