BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 March, 2004, 18:13 GMT 23:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان میں تبدیلیاں متوقع

کوئٹہ
وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بہت جلد بڑی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں کیونکہ گزشتہ سات ماہ میں یہ دوسرا بڑا خود کش حملہ ہوا ہے جس میں انسانی جانوں کے ساتھ املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

سنیچر کو ایک روزہ دورے پر وزیر اعظم جمالی کوئٹہ پہنچے تو انھیں امن و امان کے صورتحال سے آگاہ کی گیا اس کے علاوہ انھوں نے شیعہ کانفرنس اور تاجر برادری سے ملاقاتیں کیں جس کے بعد انھوں نے اخباری کانفرنس میں بتایا کہ اسلام آباد جا رہے ہیں جہاں وہ صوبے میں تبدیلیوں کے احکامات دیں گے۔

انھوں نے ان تبدیلیوں کو ضروری قرار دیا اور کہا ہے کہ بعض فیصلے ضروری ہیں۔ انھوں نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ کہ آیا یہ سیاسی تبدیلیاں ہیں یا انتظامی سطح کی تبدیلیاں ہیں ۔

ماتمی جلوس پر حملے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے عمل کو وزیراعظم نے انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کے اس میں ایسا طبقہ، لوگ یا گروہ ملوث ہو سکتے ہیں جنھوں نے گزشتہ برس چار جولائی کو امام بارگاہ پر حملہ کیا تھا لہذا اس معاملے پر حکومت گہرائی میں جائے گی اور اتنی گہرائئ میں جائے گی کہ اس برائی کی جڑوں تک پہنچ جائے۔ اس میں کوئی بھی طبقہ یا لوگ ملوث ہوں چاہے وہ جس حیثیت میں ہوں انھیں معاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ قانون سب کے لیے یکساں ہے۔

وزیراعظم نے کہا ہے کہ انھوں نے گورنر اور وزیراعلی کو بہتر تعاون اور اعلی انتظامی ماحول پیدا کرنے کا کہا ہے ۔ جو واقعہ اب پیش آیا ہے اس حوالے سے بہتر فیصلے اور احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال جولائی میں امام بارگاہ پر حملے کے بعد سابق گورنر لیفٹیننٹ ریٹائرڈ عبدالقادر اور اس وقت کے وزیر داخلہ سردار ثناءاللہ زہری نے استعفے دے دیے تھے اس کے علاوہ سیکرٹری داخلہ ڈی آئی جی ایس ایس پی اور ایس پی کوئٹہ کے تبادلے کردیے گئے تھے کچھ کو افسر بکار خاص لگا دیا گیا تھا۔

مبصرین اس مرتبہ وزیراعظم کے اس اعلان کو کافی اہمیت دے رہے ہیں ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شیعہ برادری کے قائدین نے انسپکٹر جنرل پولیس اور کچھ دیگر افسران کے تبادلے اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رکھا ہے ۔ مبصرین صوبائی انتظامی افسران کے تبادلے کے اشارے بھی دے رہے ہیں کیونکہ وزیراعظم نے یہ بات زور دے کر کہا ہے کہ سات ماہ میں دو خود کش حملے ہوئے ہیں جو بہت بڑی بات ہے۔ یہ تبدیلیاں اس لیے لائی جا رہی ہیں کہ صوبے کے معاملات بہتر طریقے سے چلائے جائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد