BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 March, 2004, 16:15 GMT 21:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ: ملزموں کی گرفتاری پر انعام

کوئٹہ
کوئٹہ شہر میں فوجی اور نیم فوجی دستے گشت کر رہے ہیں
کوئٹہ میں ماتمی جلوس پر حملے میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لئے دس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے پولیس نے دو مشبہ افراد کے تصویری خاکے جاری کیے ہیں جن پر شک ظاہر کیا گیا ہے کہ انھوں نے حملہ آوروں کے ساتھ مل کر حملہ کی منصوبہ بندی کی تھی۔

اس کے علاوہ تفتیشی افسران نے بتایا ہے کہ موقع واردات سے جو اسلحہ ملا ہے اس پر کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کا نام تحریر تھا اور اس کے علاوہ گولیوں کے جو خول ملے ہیں ان پر بھی تنظیم کا نام لکھا ہوا پایا گیا ہے۔

تفتیشی افسران نے بتایا ہے لیاقت بازار میں ایک دکان کی بالائی منز ل کوئی پندرہ روز پہلے نامعلوم افراد نے کرائے پر حاصل کی تھی اور اس دوران وہ چار یا پانچ مرتبہ آئے تاکہ یہاں کارپٹ اور پردے لگا سکیں انھوں نے یہ کہہ کر بالائی کمرہ حاصل کیا تھا کہ وہ اس میں کمپیوٹر کا مرکز بنانا چاہتے ہیں افسران کے مطابق وقوعہ سے دو روز قبل وہ ادھر آئے اور دو افراد کو اس عمارت میں بند کر دیا اور تالا بھی لگا دیا تھا ۔

کوئٹہ
گزشتہ روز ہلاک شدگان کی تدفین کے موقع پر شیعہ مسلمانوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا

وقوعہ کے روز ان افراد نے اپنی منصوبہ بندی کے تحت ماتمی جلوس پر حملہ کیا، حملے کے بعد اس مقام سے پولیس کو اسلحہ ملا اور گولیوں کے خول جن پر تنظیم کا نام درج ہے پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ اصل ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔

انسپکٹر جنرل پولیس نے گزشتہ دنوں بتایا ہے کہ اس کی تفتیش جاری ہے اور ابھی اس بارے میں کچھ بتانا قبل از وقت ہو گا ۔

ناظم رحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ آج جسٹس نادر علی شہر کا دورہ کریں گے تاکہ حالات کا جائزہ لے سکیں۔

یاد رہے کہ وزیراعلی بلوچستان جام محمد یوسف نے جسٹس نادر علی کی سربراہی میں ایک ٹریبیونل قائم کیا ہے جو اس حملے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کرے۔

ناظم نے مزید بتایا ہے کہ ان کی سربراہی میں قائم کمیٹی شہر میں نقصان کا جائزہ لے رہی ہے اور اب تک دو سو سے زائد مالکان سے رابطہ ہوا ہے جن کی املاک گاڑیوں اور سامان کو نقصان پہنچا ہے۔

حکومت نے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ جن افراد کا نقصان ہوا ہے وہ اپنی دعوے کمیٹی کے پاس جمع کرادیں۔

اس کے علاوہ اندرون شہر میں کرفیو میں آج کسی قسم کا وقفہ نہیں دیا گیا جبکہ شہر کے باہر کے علاقوں میں صبح نو سے پانچ بجے تک کرفیو میں نرمی کی گئی ہے۔

شہر میں فوجی اور نیم فوجی دستے تعینات ہیں اور گشت بھی کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد