جمعیت میں اختلافات شدید تر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں انتخابات کے حوالے سے جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور دونوں جانب سے کارکنوں اور ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ اتوار کو ژوب میں مولانا فضل الرحمان کے مخالف گروپ، جسے مقامی سطح پر نظریاتی گروپ کہا جا رہا ہے، کے قائدین نے ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ ان قائدین میں ضلع کوئٹہ کے امیر حافظ فضل محمد بڑیچ اور ژوب کے مولوی عصمت اللہ نے اپنی تقاریر میں کہا کہ وہ جمعیت علماء اسلام کو اس کی اصل روح کے مطابق بحال کریں گے۔ جمعیت کے صوبائی قائدین کے مطابق مرکزی قیادت نے احکامات جاری کیے ہیں جن کے مطابق جو بھی امیدوار جمعیت یا مجلس عمل کا نام یا جھنڈا استعمال کرے گا اسے جماعت سے نکال دیا جائے گا۔ سابق صوبائی وزیر حافظ حمداللہ کے مطابق اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے سولہ دسمبر کو ایک خط بھی جاری کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے مرکزی قائدین کے مشورے سے کیے گئے ہیں جن میں کوئٹہ کی نشست کے لیے حافظ فضل محمد بڑیچ کی جگہ دوسرے امیدوار کی نامزدگی بھی شامل ہے۔ اس بارے میں جماعت کے امیر مولانا فضل الرحمان سے رابطے کی بارہا کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ مخالف دھڑے یا نظریاتی گروپ کے قائدین کا کہنا ہے کہ انہیں بڑی تعداد میں مقامی قائدین اور کارکنوں کی حمایت حاصل ہے۔ حافظ فضل محمد بڑیچ کے مطابق ان کے امیدوار انتخابات جیت سکتے ہیںآ انکے بقول جماعت کی صوبائی قیادت کے نامزد امیدوار تو پاکستان مسلم لیگ قائد اعطم کے امیدواروں کو کامیاب کرنے کے لیے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
مخالف دھڑے کے بیس صوبائی اسمبلی اور چار قومی اسمبلی کے لیے امیدوار میدان میں ہیں اور ان سب نے تختی کا انتخابی نشان حاصل کیا ہے۔ جمعیت علماء اسلام بلوچستان میں مخلوط حکومت کا حصہ رہی ہے اور مسلم لیگ کے ساتھ حکومت میں شر یعت کے نفاذ اور شراب پر پابندی کا معاہدہ طے ہوا تھا اس حوالے سے کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی لیکن نہ تو بل اسمبلی میں پیش ہوا اور نہ ہی شراب پر پابندی عائد کی گئی۔ ادھر آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کی اپیل پر اتوار کو بلوچستان کے پانچ اضلاع میں احتجاجی جلسے منعقد کیے گئے جبکہ تحریک کی سطح پر ایک ریلی پیر کو پشین میں منعقد ہو گی جس سے مرکزی قائدین خطاب کریں گے۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نے اتوار کو لورالائی، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، ہرنائی اور سنجاوی میں بڑے احتجاجی مظاہرے کیے جس میں لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ نہ لیں۔ جماعت کے قائدین عثمان کاکڑ اور عبدالرحیم زیارتوال نے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ ان کے جلسوں میں معمول سے بڑھ کر لوگوں نے شرکت کی ہے۔ اے پی ڈی ایم کی سطح پر ایک اہم ریلی پیر کو پشین میں منعقد ہوگی جس کے لیے مرکزی قائدین کوئٹہ پہنچ رہے ہیں۔ کوئٹہ میں جماعت اسلامی کے رہنما قاضی حسین احمد نے بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ انتخابات فراڈ ہیں اور ان کو حقیقی نظام کے نفاذ کے لیے تیار کر رہے جس میں عدلیہ آزاد ہو اور کسی فرد واحد کی حکمرانی نہ ہو۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ کہ سن دو ہزار دو کے انتخابات بھی تو فرد واحد نے کرائے تھے تو اس وقت مجلس عمل بنا کر اس میں حصہ لیا گیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ ان انتخابات سے آمریت مضبوط ہوئی ہے اور اب وہ غلطی دہرانا نہیں چاہتے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ جبکہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں تو انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں تو آپ کے بائیکاٹ سے کیا اثر پڑے گا تو انہوں نے کہا کہ وہ عوام کی بات کر رہے ہیں اور اس وقت لوگ موجودہ حکمرانوں سے مایوس ہیں اور وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ |
اسی بارے میں بائیکاٹ سے صورتحال تبدیل14 December, 2007 | پاکستان جے یو آئی (س) نے بھی بائیکاٹ کردیا14 December, 2007 | پاکستان جے یو آئی: امیدواروں کا اعلان24 November, 2007 | پاکستان کوئٹہ:ایم ایم اے، الگ الگ مظاہرے16 November, 2007 | پاکستان ’اے پی ڈی ایم سے الگ ہو جائینگے‘26 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||