بیورو رپورٹ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | فائل فوٹو: مولانا سمیع الحق ایک پریس کانفرنس میں |
پاکستان میں ایک اور دینی جماعت جمعیت علماء اسلام (س) نے بھی آٹھ جنوری کے عام انتخابات کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے اس میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان جماعت کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قومی اسمبلی کی چھبیس اور سرحد اسمبلی کی چالیس نشستوں سے اپنے کاغذات کل واپس لے لیں گے۔ اس سے قبل جماعت اسلامی نے بھی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔ دو ہزار دو کے عام انتخابات میں جمعیت نے قومی و صوبائی اسمبلی میں ایک ایک نشست حاصل کی تھی۔ مولانا سمیع الحق کے بیٹے حامد الحق قومی اسمبلی کے اکوڑہ خٹک سے رکن منتخب ہوئے تھے۔ یہ فیصلہ مولانا سمیع الحق کی صدارت میں جمعیت کی مجلس عاملہ اور پارلیمانی بورڈ کے دو روز تک جاری رہنے والے اجلاس میں غور و خوص کے بعد کیا گیا۔ اس موقع پر اپنے اس فیصلے کی تفصیلی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ ایک جانبدار انتخابی کمیشن، ملک میں نافذ ہنگامی حالت اور عدلیہ کی برطرفی اور ضلعی حکومتوں کی مداخلت جیسے حالات میں غیرجانبدارنہ اور منصفانہ انتخابات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اپنے سابق اتحاد متحدہ مجلس عمل کا ذکر کرتے ہوئے، مولانا سمیع الحق نے الزام لگایا کہ اس اتحاد کی دو بڑی جماعتوں نے اپنی پانچ سالہ حکومتی کارکردگی کی وجہ سے ان اور دیگر دینی جماعتوں کے علماء مشائخ کے لیے انتخابی میدان مزید خاردار بنا دیا ہے۔ مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے متفقہ طور پر الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور قومی اور صوبائی اسمبلی کی نامزد امیدواروں کو کاغذات کل پندرہ دسمبر کو واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔ |