’معلق پارلیمان کے ساتھ ترقی ممکن‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ انتخابات کے نتیجےمیں اگر معلق پارلیمان وجود میں آتی ہے تو تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن فوج کا سیاس کردار ختم ہونا چاہیے۔ یہ بات انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں لاہور کے سنئیر صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ فوج سیاست میں کسی بھی طرح کی مداخلت ختم کر دے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی صدر مشرف اور ان کی ایجنسیاں دھاندلی کے لیے تیار ہیں اور ق لیگ کی سرپرستی کررہی ہیں۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ معلق پارلیمان دس کیا سو بار بھی آجائے اور چار چھ ماہ میں دوچار عام انتخابات بھی ہوجائیں تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اگر ہم فوج کا کردار ختم کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو معلق پارلیمان کے ہوتے ہوئے بھی ملک آگے بڑھے گا۔ انہوں نے ہندوستان کی مثال دی اور کہا کہ وہاں بھی معلق پارلیمان آتی ہے اور قبل از وقت انتخاب ہوجاتے ہیں لیکن فوج مداخلت نہیں کرتی اور ملک ترقی کرتا چلاجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ وہ اس حوالے سے محترمہ بے نظیر بھٹو سے تبادلہ خیال کریں۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اگر صدر پرویز مشرف کو انتخابات کے بعد تین نومبر کے اقدامات کی توثیق نہیں ملتی تو ان کے پاس گھر جانے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہوگا اور اگر وہ توثیق نہ ہونے کے باوجود نہیں مانتے تو پھر وہ اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی سے بات کریں گے کہ وہ انتخابات سے پہلے یہ عہد کریں کہ ان کے تین نومبر کے اقدامات حمایت نہیں کی جائے گی۔ نواز شریف نے کہا کہ پرویز مشرف کے پاس دھاندلی کے سوا خود کو بچانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ وہ خود مسلم لیگ قاف کی انتخابی مہم چلارہے ہیں اور پوری انتظامیہ پنجاب میں چودھری پرویز الہی اور سندھ میں ارباب رحیم سے ہدایات لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے سیاست میں کردار کے خاتمے کاراستہ عدلیہ سے ہوکر جاتا ہے اور اگر وہ عدلیہ کو بحال کرنے میں کامیاب ہوگئے تو آئندہ بھی فوج شب خون نہیں مار سکے گی۔
میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ انتخابات کے بائیکاٹ کرنے والے اے پی ڈی ایم کی جماعتوں کے جذبات کی قدر کرتے ہیں۔ ’ان کا فیصلہ ان کے سوچ کے مطابق درست ہے، ہمارا ہماری سوچ کے مطابق درست ہے ہماری منزل ایک ہے راستے دو ہیں۔‘ ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ وہ انتخابات کے بائیکاٹ کرنے والے سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اب بائیکاٹ کی بجائے ان کے منشور کو دیکھیں اوران کے مقصد کی حمایت کریں۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ کے بقول اب بائیکاٹ کی اپیل صدر مشرف کو اور ان کی کنگز پارٹی کو فائدہ پہنچائے گی اور بائیکاٹ کا اگر کسی کو نقصان ہوا تو پھر وہ نقصان پوری اپوزیشن کو ہونے کا احتمال ہے۔ انہوں نے بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں کومخاطب کرکے کہا ’یہ جنگ ہمیں لڑ لینے دیں ہوگا وہی جو وہ چاہتے ہیں یہ ہمارا ان کے ساتھ وعدہ ہے‘۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت دعائیں مانگ رہی ہے کہ مسلم لیگ ن انتخابات کا بائیکاٹ کردے تاکہ ق لیگ کے لیے میدان صاف ہوجائے لیکن ان کے بقول مسلم لیگ ن ان کا سڑکوں پر اور پارلیمان میں ہرجگہ مقابلہ کرے گی۔ |
اسی بارے میں نواز شریف: اتوار سے سندھ کا دورہ20 December, 2007 | پاکستان اکیلے بائیکاٹ نہیں :اے این پی30 November, 2007 | پاکستان ’شریف گرفتار کیوں نہیں ہوئے‘17 October, 2007 | پاکستان انتخابات، جماعتیں اور منشور17 December, 2007 | پاکستان شریف برادران کی درخواست مسترد17 December, 2007 | پاکستان ایمرجنسی لگانے کے مقاصد پورے ہو گئے: مشرف15 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||