وصیت جاری کرنا لازمی نہیں: زرداری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی وصیت بلاول کی ملکیت ہے اور یہ ان کے خاندان پر لازم نہیں ہے کہ وہ اسے میڈیا کے لیے جاری کریں۔ بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ وصیت ان کے خاندان کی ملکیت ہے اور جن کو اسے دکھانا لازم تھا انہیں پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے دوران دکھا دی گئی ہے اور وہ نہیں سمجھتے کے اسے کسی اور کو دکھانا ضروری ہے۔ مسٹر آصف علی زرداری نے کہا کہ جب ان کے پاس یہ خط بی بی کی وفات کے دن پہنچا۔ ’بچوں کے ساتھ بیٹھ کے کھولا۔ تو بہت ساری اس میں چیزیں ہیں، فیملی کی چیزیں ہیں، نوکروں کے بارے میں ہے، کونسی چیز کہاں پڑی ہے، کیا ہے۔ پھر میں نے پولیٹکل وصیت پڑھی تو میں چونک گیا، اس لیے کہ میں توقع ہی نہیں کر رہا تھا، یہ بڑا مشکل فیصلہ تھا۔ لوگوں کو سمجھ نہ آئے، آپ کو سمجھ آئے گا کہ بڑا بائینڈنگ فیصلہ تھا، کیا اس کی وصیت ہے اور ہم تو، صرف میری شریک حیات تو نہیں تھی، میری لیڈر بھی تھی۔‘ آصف زرداری سے انٹرویو کا متن ذیل میں دیا جا رہا ہے: سوال: یہ وصیت ہاتھ سے لکھی گئی ہے اور آپ نے پیپلز پارٹی کی سی ای سی میں اپنے ممبرز کے ساتھ اس کو شیئر کیا؟ آصف علی زرداری: جی ہاں! سی ای سی میں دکھائی، بلاول نے پڑھ کر سنائی۔ آصف علی زرداری: ایک دستاویز ہے جو کہ بلاول کی ملکیت ہے اور ہمارے خاندان کی ملکیت ہے، جن کو دیکھنا تھا انہوں نے دیکھ لیا اور کسی کو دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ سوال: بینظیر بھٹو صاحبہ کی خواہش تھی کہ آپ پارٹی کو لیڈ کریں، آپ نے فیصلہ کیا کہ بلاول زرداری کو بنایا جائے چیئرمین۔ یہ فیصلہ کرتے ہوئے آپ نے یہ ذہن میں رکھا کہ ان کی عمر بہت ہی کم ہے اور وہ کس طرح سے یہ ذمہ داری نبھا پائیں گے؟ آصف علی زرداری: میں نے یہ فیصلہ کرتے ہوئے پہلی بات تو میں نے اس کی خالہ سے بھی اجازت لی، اس سے اجازت لی، اس سے بات کی۔ سوال: کیا ردعمل تھا جب آپ نے ان سے بات کی؟ آصف علی زرداری: ان سے بات کی، ان کو سمجھایا، ان سے زیادہ، کافی لوگوں سے بہت زیادہ سمجھ دار ہے، وہ سمجھتا ہے کہ یہ بہت ضروری ہے اس ملک کو بچانے کے لیے۔ اس لیے کہ ہمارے ہاں ہمیشہ یہ کہا گیا ہے کہ چاروں صوبوں کی زنجیر بینظیر۔ ہم سب نے سوچا کہ اس پاکستان کو بچانے کے لیے جس کی خاطر اس کی ماں نے اپنی جان دے دی، اس کے نانا نے اپنی جان دے دی، اس کے ماموؤں نے اپنی جان دے دی، اس کو بچانے کے لیے بلاول کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا، یہ سمبل اٹھانا پڑے گا اور چاروں صوبوں کی زنجیر بننا پڑے گا۔ سوال: تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پیپلز پارٹی کی سیاست میں جو بھٹو فیکٹر ہے جس کی وجہ سے سندھ پیپلز پارٹی کا گڑھ ہے، بھٹو کے چاہنے والے پیپلز پارٹی میں رہے ہیں، اس کا بھی بڑا عمل دخل رہا اس فیصلے میں؟ آصف علی زرداری: میں یہ کہوں گا کہ ہمیشہ بھٹو صاحب کی پولیٹکل لیگیسی تھی، چار بچے تھے، عوام نے شہید بی بی صاحبہ کو منتخب کیا۔ اب یہ لوگوں پر ہے، عوام پر ہے کہ وہ بلاول کو قبول کرتے ہیں، ہمیں قبول کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔ سوال: لیکن یہ آپ کو لگا اس مشکل مرحلے میں کہ اگر آپ چیئرپرسن بنتے ہیں تو کچھ لوگ شاید اس بات کو نہ مانیں اور اس لیے بلاول کو آگے لانا ناگزیر بن گیا؟ آصف علی زرداری: یہ بھی ایک فیکٹر ہے مگر زیادہ فیکٹر یہ ہے کہ بلاول جس طرح بی بی صاحبہ ایک بائینڈنگ فورس تھیں پورے پاکستان میں، میری نظر میں وہ بھی ایک بائینڈنگ فورس بن جائے گا، پورے پاکستان میں۔
آصف علی زرداری: میں آپ سے یہ شیئر کر سکتا ہوں کہ یہ عملی طور پر غیر فطری ہے۔ سب نے توثیق کی بلاول کی چیئرمین شپ کی، سب نے توثیق کی میری چیئرمین شپ کی، سب نے الیکشن میں جانے کے لیے توثیق کی۔ سوال: یہ بتائیں کہ اب الیکشنز میں ٹائم بہت کم ہے، کیا بلاول انتخابی مہم کا حصہ بنیں گے؟ آصف علی زرداری: نہیں بلاول نہیں بنیں گے، میں بنوں گا۔ سوال: آپ نے پریس کانفرنس میں مسلم لیگ قائداعظم کو قاتل لیگ کہا تو کیا بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام مسلم لیگ قائداعظم کی قیادت پر ڈال رہے ہیں؟ آصف علی زرداری: میں نے تو کیا ڈالنا ہے، وہ قبر بول رہی ہے، بی بی صاحبہ ہم پر یہ فیصلہ چھوڑ کر نہیں گئی کہ ہم فیصلہ کریں کہ کون اس کا قاتل ہے۔ اس نے اپنی حیات میں ایک خط لکھ کے مارک سیگل کے پاس رکھوایا جو سی این این نے (نشر) کیا ہے۔ تو میں یا کوئی اور پیپلز پارٹی میں ہم کو ضرورت ہی نہیں کسی ابہام کی یا کسی کو شک کرنے کی یا کسی کا نام لینے کی، وہ قبر بول رہی ہے۔ سوال:اس ای میل میں تو یہ کہا گیا ہے کہ بینظیر بھٹو نے کہا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کی کچھ ذمہ داری پرویز مشرف پر بھی ہوگی؟ آصف علی زرداری: بالکل کہا ہے۔ اس کی آج سی ای سی نے توثیق کی ہے۔ یہ بات ہے کہ ہمیں تو صرف توثیق کرنا ہے اور ان کے حکم کی تعمیل کرنی ہے، وہ تو حکم کر چکی ہیں، کہہ گئی ہیں اور ورلڈ کو اپیل کر چکی ہیں، اپنی وفات سے پہلے، ہم تو اس کو نہیں بدل سکتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||