نعیمہ احمد مہجور بی بی سی اردو سروس، لندن |  |
 | | | بے نظیر نے تلقین کی کہ ان سے صرف ٹیکسٹ کے ذریعے رابطہ کروں |
وطن واپسی سے پہلے لندن میں بے نظیربھٹو کے قریبی معتمد رحمان ملک کے گھر میں پیپلز پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کا اجلاس ہونا تھا۔ میں بے نظیر بھٹو سے انٹرویو کے سلسلے میں جب اُس گیٹ کے پاس پہنچی جہاں پارٹی کے درجنوں کارکن جمع تھے تو ان میں ایک انگریز خاتون بھی موجود تھیں۔ مجھے دیکھ کر وہ فورا میری طرف لپکیں اور کہنے لگیں ’بے نظیر بھٹو کب باہر آئیں گی میں انہیں دیکھنا چاہتی ہوں۔‘ کیا آپ بھی میڈیا سے وابستہ ہیں؟ میں نے اس کے سوال کا جواب دیئے بغیر سُقراط کے سٹائل میں اپنا سوال کر ڈالا۔ ’نہیں، میں میڈیا سے نہیں ہوں اور نہ ہی سیاسی کارکن۔ میں بے نظیر کی ایک جھلک دیکھنا چاہتی ہوں اس پر اعتماد خاتون کو دیکھ کر مجھ میں ہمت آ جاتی ہے۔ بے نظیر میری آیڈییل بن چکی ہیں۔‘ اس نے فخریہ انداز میں کہا۔ انگریز خاتون جو کچھ کہ رہی تھیں اس کی آنکھیں اس کی سچائی کی شہادت دے رہی تھیں۔ چند ہی لمحوں بعد بے نظیر بھٹو کار سے نیچے اُتریں، میں نے فوراً ہی ان پر سوالوں کی بوچھاڑ شروع کر دی۔ انٹرویو کے بعد میں نے اُن سے پاکستان میں ان کا فون نمبر مانگا۔ انہوں نے ایک نمبر لکھوایا مگر ساتھ ہی تلقین کی کہ صرف انہیں ٹیکسٹ کروں جس کا جواب وہ ٹیکسٹ میں ہی دیا کریں گی۔
 | مکمل انٹرویو کا وعدہ  نعیمہ میں گھر کے قریب پہنچ گئی ہوں، یہاں لوگوں کا جم غفیر ہے آپ کا انٹرویو اُدھورا رہ گیا، مگر آپ مجھے ایک گھنٹے کے بعد دوبارہ فون کر لیں آپ سے وعدہ ہے کہ اس وقت انٹرویو مکمل ہوگا  بے نظیر بھٹو |
پاکستان پہنچنے کے چند روز بعد میں نے انہیں ٹیکسٹ بھیج کر ایک انٹرویو کی گزارش کی۔ دوسرے روز علی الصبح پاکستان سے پارٹی رہنماء فرحت اللہ بابر کا فون آیا کہ بی بی انٹرویو کے لیے میرا انتظار کر رہی ہیں۔ دوڑے لپکے میں بُش ہاوس پہنچی اور فوراً ان سے رابطہ کیا۔ بی بی نے فورا کہا ’میں آپ ہی کا انتظار کر رہی ہوں، میں اس وقت کار میں ہوں اگر لائن صاف ہے تو آپ اسی نمبر پر انٹرویو کرلیں۔‘ ابھی میں نے تقریباً سات منٹ کا انٹرویو ریکارڈ کیا کہ بے نظیر بھٹو کی آواز کے ساتھ کچھ اور آوازیں شامل ہوگئیں اور وہ فوراً کہنے لگیں ’نعیمہ میں گھر کے قریب پہنچ گئی ہوں، یہاں لوگوں کا جم غفیر ہے آپ کا انٹرویو اُدھورا رہ گیا، مگر آپ مجھے ایک گھنٹے کے بعد دوبارہ فون کر لیں آپ سے وعدہ ہے کہ اس وقت انٹرویو مکمل ہوگا۔‘ اُس دن میں نے کئی بار فون کیا لیکن وہ ہر مرتبہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ مصروف تھیں یا کسی شخصیت کے ساتھ محوِگفتگو۔ اس روز کے بعد میری اور انگریز خاتون کی ایک جیسی حالت ہوگئی ہے وہ اپنے آئیڈیل کی جھلک دیکھنے رحمان ملک کے گھر کے سامنے انتظار کر رہی ہیں اور میں ادھورا انٹرویو مکمل کرنے کے لیے بے نظیر کے ٹیکسٹ کا۔ ہم دونوں کی ڈائری میں ستائیس دسمبر کا صحفہ بالکل غائب ہے ۔ |