BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر کے قتل کا حکم کس نے دیا؟

 بینظیر
پاکستانی معاشرہ ایک قومی رہنما کے قتل پر غمگین ہے
بینظیر بھٹو کو کس نے مارا؟

ان کے اصل قاتل کی شناخت کبھی معلوم ہو بھی گئی تو وہ ایک ایسا شخص ہوگا جس کے بارے میں زیادہ تر لوگوں نے کبھی نہیں سنا ہوگا۔

اہم بات یہ ہے کہ اس کو بھیجنے والے کون تھے اور انہوں نے ایسا کیوں کیا؟

پاکستان میں جہاں افواہوں کا بازار گرم ہے اس وقت دو متضاد آراء گردش کر ہی ہیں۔ ایک رائے حکومت کی طرف سے پیش کی گئی ہے کہ قاتل القاعدہ یا طالبان یا دونوں تھے۔ یقیناً رش والی جگہ پر خودکش حملہ القاعدہ کا پسندید طریقہ ہے، لیکن اس بار حملہ آور نے ناکامی کا امکان ختم کرنے کے لیےاپنے آپ کو اڑانے سے قبل فائرنگ بھی کی۔

القاعدہ اور طالبان کے پاس بینظیر بھٹو کو مارنے کی کئی وجوہات تھیں۔

سیکولر، مغرب میں تعلیم یافتہ اور ایک ایسی خاتون سیاستدان کی حیثیت سے جس کے برطانیہ اور امریکہ سے قریبی تعلقات تھے وہ اسلامی انتہاپسندوں کو مخالفت کی کئی وجوہات فراہم کرتی تھیں۔

پرانے رابطے
 آئی ایس آئی نے ایک طویل عرصے تک افغانستان میں طالبان اور اور کشمیری علیحدگی پسندوں کی حمایت کی۔ صدر مشرف نے امریکہ کو قائل کرنے کے لیے بہت کوششیں کی ہیں کہ انہوں نے آئی ایس آئی میں اایسے عناصر کو ختم کردیا ہے جن کے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعلقات تھے لیکن پھر بھی بہت سے لوگوں کو شک ہے کہ ابھی پرانے رابطے پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔
انہوں نے کھلے عام صدر مشرف کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ اسلامی انتہاپسندوں کو کمزور کرنے کے لیے کچھ نہیں کر رہے اور انہوں نے آئی ایس آئی پر الزام لگایا کہ اسلامی انتہاپسندوں کی پشت پناہی کرتی ہے جن کے القاعدہ سے تعلقات ہیں۔

اگر اس واقعے کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ ہے تو ان کے طریقہ کار کے مطابق وہ کنفیوژن میں اضافے کے لیے کچھ دیر رکنے کے بعد انٹرنیٹ پر ایک محتاط بیان جاری کرتی ہے جس میں خودکش حملہ آور کی تعریف اور حملے کی وجوہات کو مذہبی اصطلاحات میں پرو کر پیش کیا جاتا ہے۔

دوسری رائے جو محترمہ بھٹو کے حامیوں کے نزدیک درست ہے یہ ہے کہ حملے میں حملے کی ذمہ دار صدر مشرف کی حکومت ہے۔ وہ خاص طور پر آئی ایس آئی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ان کے مطابق بینظیر بھٹو کی اقتدار میں متوقع واپسی سے اتنی پریشان تھی کہ اس نے انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلے کیا۔

اس رائے کو لوگ جتنے بھی اعتماد سے پیش کریں اس کو سچ ثابت کرنے کے لیے آزاد شواہد نہیں ہیں اور مکمل طور پر شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کے بغیر حقیقت شاید کبھی بھی معلوم نہ ہو سکے۔

پاکستانی سیاست کے گنجل میں بہت سے ایسے اسلامی عسکریت پسند گروپ ہیں جن کا تعلق نہ القاعدہ سے ہے اور نہ حکومت سے لیکن اس کے باوجود کسی ایک سے یا دونوں سے روابط ہیں۔

آئی ایس آئی نے ایک طویل عرصے تک افغانستان میں طالبان اور اور کشمیری علیحدگی پسندوں کی حمایت کی۔ صدر مشرف نے امریکہ کو قائل کرنے کے لیے بہت کوششیں کی ہیں کہ انہوں نے آئی ایس آئی میں اایسے عناصر کو ختم کردیا ہے جن کے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعلقات تھے لیکن پھر بھی بہت سے لوگوں کو شک ہے کہ ابھی پرانے رابطے پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔

آنے والے دنوں میں پاکستانی کی داخلی صورتحال کا دارومدار اس پر ہوگا کہ آیا کہ حملہ آور کو پاکستان میں سے ہی بھیجا گیا تھا یا باہر سے۔ اگر تو اس میں القاعدہ یا طالبان ملوث ہیں تو یہ معاشرے کو اکٹھا کرنے میں مددگار ہوگا جو ایک قومی ایک رہنما کے قتل پر غمگین ہے۔ دوسری صورت میں اگر قاتل پاکستانی معاشرے کے کسی ایک دھارے کا حصہ نکلے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

بینظیر کے بعد کون؟
پیپلز پارٹی کی باگ ڈور اب کون سنبھالے گا
اسی بارے میں
سندھ کیوں جل رہا ہے؟
29 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد