بینظیر کے قتل کا حکم کس نے دیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بینظیر بھٹو کو کس نے مارا؟ ان کے اصل قاتل کی شناخت کبھی معلوم ہو بھی گئی تو وہ ایک ایسا شخص ہوگا جس کے بارے میں زیادہ تر لوگوں نے کبھی نہیں سنا ہوگا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس کو بھیجنے والے کون تھے اور انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ پاکستان میں جہاں افواہوں کا بازار گرم ہے اس وقت دو متضاد آراء گردش کر ہی ہیں۔ ایک رائے حکومت کی طرف سے پیش کی گئی ہے کہ قاتل القاعدہ یا طالبان یا دونوں تھے۔ یقیناً رش والی جگہ پر خودکش حملہ القاعدہ کا پسندید طریقہ ہے، لیکن اس بار حملہ آور نے ناکامی کا امکان ختم کرنے کے لیےاپنے آپ کو اڑانے سے قبل فائرنگ بھی کی۔ القاعدہ اور طالبان کے پاس بینظیر بھٹو کو مارنے کی کئی وجوہات تھیں۔ سیکولر، مغرب میں تعلیم یافتہ اور ایک ایسی خاتون سیاستدان کی حیثیت سے جس کے برطانیہ اور امریکہ سے قریبی تعلقات تھے وہ اسلامی انتہاپسندوں کو مخالفت کی کئی وجوہات فراہم کرتی تھیں۔
اگر اس واقعے کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ ہے تو ان کے طریقہ کار کے مطابق وہ کنفیوژن میں اضافے کے لیے کچھ دیر رکنے کے بعد انٹرنیٹ پر ایک محتاط بیان جاری کرتی ہے جس میں خودکش حملہ آور کی تعریف اور حملے کی وجوہات کو مذہبی اصطلاحات میں پرو کر پیش کیا جاتا ہے۔ دوسری رائے جو محترمہ بھٹو کے حامیوں کے نزدیک درست ہے یہ ہے کہ حملے میں حملے کی ذمہ دار صدر مشرف کی حکومت ہے۔ وہ خاص طور پر آئی ایس آئی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ان کے مطابق بینظیر بھٹو کی اقتدار میں متوقع واپسی سے اتنی پریشان تھی کہ اس نے انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلے کیا۔ اس رائے کو لوگ جتنے بھی اعتماد سے پیش کریں اس کو سچ ثابت کرنے کے لیے آزاد شواہد نہیں ہیں اور مکمل طور پر شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کے بغیر حقیقت شاید کبھی بھی معلوم نہ ہو سکے۔ پاکستانی سیاست کے گنجل میں بہت سے ایسے اسلامی عسکریت پسند گروپ ہیں جن کا تعلق نہ القاعدہ سے ہے اور نہ حکومت سے لیکن اس کے باوجود کسی ایک سے یا دونوں سے روابط ہیں۔ آئی ایس آئی نے ایک طویل عرصے تک افغانستان میں طالبان اور اور کشمیری علیحدگی پسندوں کی حمایت کی۔ صدر مشرف نے امریکہ کو قائل کرنے کے لیے بہت کوششیں کی ہیں کہ انہوں نے آئی ایس آئی میں اایسے عناصر کو ختم کردیا ہے جن کے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعلقات تھے لیکن پھر بھی بہت سے لوگوں کو شک ہے کہ ابھی پرانے رابطے پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔ آنے والے دنوں میں پاکستانی کی داخلی صورتحال کا دارومدار اس پر ہوگا کہ آیا کہ حملہ آور کو پاکستان میں سے ہی بھیجا گیا تھا یا باہر سے۔ اگر تو اس میں القاعدہ یا طالبان ملوث ہیں تو یہ معاشرے کو اکٹھا کرنے میں مددگار ہوگا جو ایک قومی ایک رہنما کے قتل پر غمگین ہے۔ دوسری صورت میں اگر قاتل پاکستانی معاشرے کے کسی ایک دھارے کا حصہ نکلے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں سندھ کیوں جل رہا ہے؟29 December, 2007 | پاکستان بھٹو کے قتل پرامریکہ میں ہلچل 28 December, 2007 | پاکستان طالبان کی طرف سے دعوے کی تردید29 December, 2007 | پاکستان نواز شریف اور زرداری کی ملاقات29 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||