نواز شریف اور زرداری کی ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیرِاعظم میاں نواز شریف کے لاہور سے نوڈیرو پہنچنے پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے صوبہ پنجاب کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق جب نواز شریف نوڈیرو پہنچے تو پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے سابق وزیرِ اعظم کو دیکھ کر نعرے بازی شروع کر دی۔ تاہم سابق ایم این اے ذوالفقار مرزا اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے نواز شریف کو گھیرے میں لے لیا اور انہیں اندر لے گئے۔ اس موقع پر انتہائی بدنظمی دیکھنے میں آئی۔ جب نواز شریف بھٹو ہاؤس کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوئے تو وہاں موجود پی پی پی کارکنوں کے پنجاب مخالف نعروں میں شدت آ گئی۔ اس دوران نواز شریف کو کچھ دھکے بھی لگے۔ نواز شریف کے ساتھ ہی بھٹو ہاؤس میں داخل ہونے والے اے این پی کے رہنما حاجی غلام احمد بلور کارکنوں کی بدتمیزی سے برہم ہوکر گھر سے باہر چلے گئے۔ بعد میں پی پی پی کے رہنما آغا سراج درانی انہیں منا کر واپس لائے۔ سابق وزیر اعظم نے بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری اور ان کے بیٹے بلاول سے ملاقات کے دوران کہا: ’میرے لیے بینظیر بھٹو بہن کی طرح تھیں‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی تھیں۔ دو روز پہلے ہی ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اتنا بڑا سانحہ ہو جائے گا اس بات کا یقین نہیں آ رہا۔
جب بھٹو ہاؤس پر موجود میڈیا ملاقات والے کمرے میں گھس گیا تو آصف علی زرداری نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی باتوں کا موقع نہیں ہے۔ اس کے باوجود جب میڈیا کے نمائندوں نے جانے سے انکار کر دیا تو آصف علی زرداری میاں نواز شریف کو دوسرے کمرے میں لے گئے اور دونوں کے درمیان آدھ گھنٹے تک تنہائی میں ملاقات ہوئی۔ اس دوران نواز شریف کے ساتھ آئے ہوئے لیگی رہنماء باہر انتظار کرتے رہے۔ بعد میں نواز شریف کو مسلح محافظوں کے حصار میں ان کی گاڑی تک پہنچایا گیا اور جب بھٹو ہاؤس کے دروازے پر ان کا پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے دوبارہ سامنا ہوا تو کارکنوں نے دوبارہ پنجاب اور صدر مشرف کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس کے بعد میاں نواز شریف کو گاڑیوں کے ایک قافلے میں گڑھی خدا بخش بھٹو پہنچایا گیا جہاں انہوں نے بینظیر بھٹو کی قبر پر فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چار چڑھائی۔ جمعرات کو راولپنڈی میں ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوجانے والی سابق وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کو گزشتہ روز گڑھی خدا بخش میں اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے مزار کے پہلو میں لحد میں اتارا گیا تھا۔ نواز شریف نے اعلان کیا تھا کہ وہ بینظیر بھٹو کے جنازے میں شرکت کے لیے گڑھی خدا بخش جانا چاہتے ہیں لیکن بعض نجی ٹی وی چینلز کی رپورٹ کے مطابق آصف علی زرداری کے کہنے پر انہوں نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا تھا۔ نواز لیگ کے اپنے وفد میں پاکستان کے تین صوبوں کے نمائندے شامل ہیں۔ اِن میں میاں شہباز شریف، مخدوم جاوید ہاشمی، راجہ ظفرالحق، احسن اقبال، ظفراقبال جھگڑا، سردار ذوالفقار کھوسہ، پیر صابر شاہ اور سردار مہتاب شامل ہیں۔
ملک کے دیگر حصوں سے بھی سیاسی شخصیات وفود کے ہمراہ نوڈیرو ہاؤس پہنچی ہیں۔ ان میں بلوچستان سے محمود خان اچکزئی اور عبدالحئی بلوچ شامل ہیں۔ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول زرداری ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے وفد سے بھٹو ہاؤس کے اندرونی حصے میں مل رہے ہیں جبکہ بینظیر بھٹو کے بھتیجے ذوالفقار جونیئر بھٹو ہاؤس کے بیرونی حصے میں لگائے گئے کیمپ میں تعزیت کے لیے آنے والے عام کارکنوں سے مل رہے ہیں۔ اس سے پہلے نواز لیگ کے ترجمان صدیق الفاروق نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ نواز شریف لاڑکانہ تینوں صوبوں کے نمائندوں کو ساتھ لے کر جا رہے ہیں کیونکہ وہ پیپلز پارٹی اور سندھ کے عوام کو واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اس مشکل گھڑی میں وہ تنہا نہیں اور پورا پاکستان اُن کے ساتھ ہے۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد نواز شریف پہلے ہی آٹھ جنوری کے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر چکے ہیں۔ انہوں نے صدر مشرف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قوم کے وسیع تر مفاد میں اقتدار چھوڑ دیں اور ملک میں ایک قومی حکومت قائم کی خیال کیا جا رہا ہے کہ نواز شریف پیپلز پارٹی پر مشرف حکومت کے خلاف مشترکہ سیاسی حکمتِ عملی بنانے پر زور دیں گے۔ ادھر امریکہ اور برطانیہ نے نواز شریف اور پیپلز پارٹی پر زور دیا ہے کہ وہ انتخابی عمل کو پٹڑی سے نہ اترنے دیں اور انتخابات میں حصہ لیں۔ پاکستان میں نگراں حکومت نے کہا ہے کہ انتخابات ملتوی کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ تمام جماعتوں کے مشورے سے کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی نے اپنی قائد کے قتل پر چالیس دن کے سوگ کا اعلان کر رکھا ہے۔ توقع ہے کہ کل بینظیر بھٹو کے سوئم کے بعد بلائے گئے پارٹی کی مرکزی مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں آئندہ کی حکمتِ عملی پر غور کیا جائے گا۔ جمعہ کو بینظیر بھٹو کی آخری رسومات میں ان کے شوہر آصف علی زرداری، بیٹے بلاول اور اعزہ نے شرکت کی اور مقامی روایات کے مطابق ان کی قبر پر مٹی ڈال کر اسے پاؤں سے دبایا۔ بعد میں بلاول نے اپنی والدہ کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ بھٹو خاندان کی طرف سے بینظیر بھٹو کی تدفین میں ان کی بھابھی غنویٰ بھٹو اور بھتیجے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے بھی شرکت کی۔ تاہم بینظیر بھٹو کے چچا آخری رسومات میں شریک نہیں ہوئے۔ بلاول نے سیاہ رنگ کا ماتمی لباس پہن رکھا تھا اور ان کی آنکھیں نم تھیں۔ وہ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان کے متفقہ فیصلے کے مطابق بینظیر بھٹو کا آخری دیدار نہیں کرایا گیا کیونکہ جنازے میں شرکت کے لیے آنے والے کارکنوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا تھا کہ نمازِ جنازہ کے وقت بینظیر کی میت کو ایمبولنس کے اندر ہی رکھا جائے۔
نوڈیرو میں بھٹو ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری نے پارٹی رکارکنوں سے اپیل کی تھی کہ وہ رو کر ان کا دل چھوٹا مت کریں بلکہ خود بھی ہمت کریں اور ان کی بھی ہمت بندھائیں۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ بہادر بہن کے بھائی ہیں انہیں خود بھی حوصلہ کرناچاہیے اور دیگر لوگوں کو بھی حوصلہ دینا چاہیے۔ آصف زرداری کے خطاب کے دوران چند مشتعل کارکنوں نے پنجاب کے خلاف نعرہ بازی کی تو انہوں نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا کہ پنجاب کا کوئی قصور نہیں بلکہ لٹیروں کا قصور ہے جنہوں نے ہم سے دھوکہ کیا۔ بینظیر بھٹو کی تدفین سے قبل ان کی چھوٹی بہن صنم بھٹو لندن سے نوڈیرو پہنچیں۔ انہیں ایک خصوصی طیارے سے کراچی سے لاڑکانہ لایا گیا۔ صنم بھٹو ذوالفقار علی بھٹو کی سب سے چھوٹی صاحبزدای ہیں۔ ان سے بڑی بہن اور دو بھائی قتل کیے جاچکے ہیں۔ جنازہ گاہ میں موجود پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید نوید قمر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیشہ سندھ سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کو راولپنڈی میں ہی کیوں قتل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاید یہی وجہ ہے کہ رنجشیں نعروں میں بدل رہی ہیں۔ اس سے قبل جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بینظیر بھٹو کا جسد خاکی پاکستان ایئرفورس کے ایک 130-C طیارے کے ذریعے راولپنڈی سے سکھر اور پھر وہاں سے ہیلی کاپٹر پر ان کے آبائی شہر لاڑکانہ کے موہنجوداڑو ایئرپورٹ پہنچایا گیا تھا۔ بینظیر بھٹو کی میت پاکستانی وقت کے مطابق رات ایک بجکر بیس منٹ پر راولپنڈی کی چکلالہ ائیربیس سے سکھر کے لیے روانہ کی گئی تھی۔ طیارے میں ان کے شوہر آصف علی زداری اور بچے بلاول، بختاور اور آصفہ بھی موجود تھے۔ آصف علی زرداری اور ان کے بچے خصوصی طیارے کے ذریعے دبئی سے اسلام آباد پہنچے تھے۔ موہنجوداڑو ائرپورٹ سے بینظیر بھٹو کی میت لاڑکانہ میں ’نوڈیرو ہاؤس‘ پہنچی تو موقع پر موجود سینکڑوں کارکن زار و قطار رونے لگے۔ ان میں سے کئی نے سینہ کوبی شروع کر دی۔
میت کے ساتھ ان کے پیپلز پارٹی رہنماء مخدوم امین فہیم، راجہ پرویز اشرف، شیریں رحمان اور دیگر پارٹی رہنما شامل تھے۔ اسلام آباد سے نامہ نگاروں ہارون رشید اور شہزاد ملک کے مطابق بے نظیر بھٹو کی میت جب ہسپتال سے باہر لائی گئی تو سینکڑوں کی تعداد میں غصے سے بھرے پیپلز پارٹی کے کارکن دھاڑے مار مار کر رو رہے تھے۔ ہسپتال کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بے نظیر بھٹو کو جب ہسپتال لایا گیا تو وہ دم توڑ چکی تھیں۔ |
اسی بارے میں بینظیر بھٹو کی آخری تقریر27 December, 2007 | پاکستان انتخابات کا بائیکاٹ: نواز شریف27 December, 2007 | پاکستان بینظیر قتل: عدالتی تحقیقات کاحکم27 December, 2007 | پاکستان بینظیر قتل: حِصص بازار میں مندی 28 December, 2007 | پاکستان سندھ: ہنگامے، فوج الرٹ28 December, 2007 | پاکستان ہنگامے، توڑ پھوڑ، غم و غصے کی لہر27 December, 2007 | پاکستان یہ ٹارگٹ کلنگ ہے: بابر اعوان27 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||