شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | خودکش حملہ آور کے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ بھی ابھی نہیں ملی ہے |
سانحہ راولپنڈی کو رونما ہوئے چار دن ہوگئے ہیں لیکن اس واقعہ کی تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور ایڈشنل آئی جی پنجاب چوہدری عبدالمجید کی سربراہی میں اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی پولیس کی ٹیم کو نہ ہی مبینہ خودکش حملہ آور کے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ ملی ہے اور نہ ہی ایف ائی اے کے سپیشل انوسٹیگیشن گروپ کی طرف سے اس خودکش حملے میں استمال ہونے والے ہونے والے بارود کے بارے میں رپورٹ دی گئی ہے۔ جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سانحہ کی تحقیقات سات یوم میں مکمل کرلی جائیں گی۔ اس واقعہ میں پیلپز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو سمیت چوبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ تفتیشی ٹیم میں شامل ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو جائے واقعہ سے ملنے والے پستول سے ملزم کی انگلیوں کے نشانات حاصل کرنے کے حوالے سے اس پستول کو فرنزک لیبارٹری میں بھجوا دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے جائے حادثہ کے قریب واقع ہوٹلز سے ان تمام افراد کا ریکارڈ قبضے میں لیکر ان سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے جو اس وقت ہوٹل میں موجود تھے جس وقت یہ واقعہ رونما ہوا۔ پولیس ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ایجنسیوں نے جو مشتبہ افراد کو اس واقعہ کی تفتیش کے حوالے سے حراست میں لیا تھا اس کے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے گزشتہ روز اس واقعہ کے بارے میں حکومت کی طرف سےہونے والی تحقیقات پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کی تحقیقات بین الاقوامی ماہرین سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اتوار کے روز اپنی پریس کانفرنس کے دوران اس سانحہ کی تحقیقات کے لیے لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کرنے والے جیسے کمیشن کی بھی تشکیل کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں آرہی تھیں کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اس واقعہ کی تحقیقات بین الاقوامی ماہرین سے کروانے پر رضا مند ہوگئے ہیں۔ اس ضمن میں جب صدر کے ترجمان راشد قریشی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کل صدر پاکستان کو فون کیا تھا اور انہوں نے ملک میں مکمل جمہوریت کے سلسلے میں صدر کے کردار کو سراہا تھا اور موجودہ حالات میں اپنی حمایت کا یقین دلایا تھا۔ صدر کے ترجمان نے کہا کہ یہ حکومت کی صوابدید پر ہے کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کے حوالے سے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کرتی ہے کہ نہیں۔ حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس میں واقعہ میں بیت اللہ محسود کے کارکنوں کا ہاتھ ہے جسے بیت اللہ محسود اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے مسترد کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک غیرملکی ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے ملنے والی ایک ویڈیو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کو سر میں گولی لگی تھی اور اس دعوے نے حکومت کے بیان کہ محترمہ گاڑی کی چھت کا لیور لگنے کی وجہ سے ہلاک ہوئیں، کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔ |