BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 December, 2007, 17:37 GMT 22:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیت اللہ ٹیپ اور حکومتی ذمہ داری

حکومت کا دعوی ہے کہ یہ گفتگوبینظیر کی ہلاکت کے دوسرے روز صبح سوا نو بجے ریکارڈ کی گئی
حکومت کی جانب سے قبائلی جنگجو سردار بیت اللہ محسود کے خلاف بےنظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہونے کے شک کی بڑی وجہ ان کی مبینہ طور پر کسی ’مولوی صاحب‘ سے ٹیلیفون پر ریکارڈ کی جانے والی گفتگو ہے۔

اس گفتگو کے اصل ہونے کے لیے دو چیزیں انتہائی اہم ہیں۔ ایک یہ کہ یہ کب ریکارڈّ کی گئی اور دوسرا کہ جس واقعے پر دونوں اشخاص ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے ہیں وہ کون سا ہے۔ اس آڈیو سے ان دونوں کلیدی سوالات کے جواب حاصل نہیں ہوتے۔

حکومت کا دعوی ہے کہ یہ گفتگو محترمہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے دوسرے روز صبح سوا نو بجے ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ یہ ایک تکنیکی مسئلہ ہے لیکن جو تھوڑی بہت معلومات رکھتا ہوں اس کے مطابق بعض ویڈیو کیمروں میں تو شاید کوئی بھی فلم بناتے وقت دیگر معلومات جیسا کہ ریکارڈنگ کی تاریخ اور وقت محفوظ ہو جاتا ہے لیکن کسی بھی آڈیو ریکارڈر میں آج تک شاید ایسی کوئی سہولت موجود نہیں۔

پی پی پی کو پیغام
 اخباری اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ بیت اللہ محسود نے دو قابل اعتماد ذرائع کے ذریعے انہیں پیغام بھیجا تھا کہ ان کی محترمہ بےنظیر بھٹو سے کوئی دشمنی نہیں اور نہ ہی وہ کراچی میں اٹھارہ اکتوبر کے حملے میں ملوث تھے۔
حکومت کی فراہم کی گئی گفتگو کی اس ٹیپ سے یہ ہرگز واضع نہیں ہوتا کہ یہ گفتگو کب اور کہاں ریکارڈ کی گئی اور اس میں جس واقعے کے بارے میں دونوں گفتگو کرتے ہوئے مبارک باد دے رہے ہیں وہ کون سا واقعہ ہے۔

جنوبی وزیرستان کے محسود شدت پسندوں کے سربراہ بیت اللہ محسود سے سن دو ہزار چار کے بعد سے دو مرتبہ ملنے کا موقع ملا اور کئی مرتبہ ٹیلیفون پر بات بھی ہوتی رہی ہے۔ ہر شخص کا بات کرنے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے۔

ایک اور محسود جنگجو عبداللہ محسود سے جب بھی فون پر بات ہوتی تھی ان کا پہلے سوال کا انداز یہی ہوا کرتا تھا۔ ’ہارونئے؟‘ وہ نہیں رہے لیکن ان کا یہ طرز گفتگو، یہ آواز آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔

پینتیس سالہ بیت اللہ محسود کا بھی اپنا ایک مخصوص انداز گفتگو رہا ہے۔ ٹیلی فون اور بلمشافہ ملاقاتوں کا آغاز ’کیسے ہو، چُرت میں ہو، زندگی برابر ہے‘ جیسے پشتو کے مختصر جملوں سے ہوتا تھا۔

حکومت کی جانب سے میڈیا کو پیش کی جانے والی اس مبینہ ٹیپ میں بھی اسی قسم کے کلمات سے بات کا آغاز ہوتا ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان برگیڈیئرر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ کا کہنا ہے کہ اس گفتگو کا انہوں نے بیت اللہ محسود کی اس سے قبل ریکارڈ کی جانے والی آوازوں سے موازنہ کیا ہے اور اس تصدیق کہ بعد کہ یہ انہیں کی ہے حکومت نے یہ بیان جاری کیا ہے۔

طالبان تحریک کے ترجمان مولوی عمر پہلے ہی حکومتی الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ یہ ملک کا سیاسی معملہ ہے جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

لیکن جب حکومت قتل کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر بیت اللہ کی گفتگو ریکارڈ کر سکتی ہے جس میں وہ واضع طور پر اپنی موجودگی کے بارے میں بتا رہا ہے کہ وہ مکین میں قیام پذیر ہے تو پھر اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ اس کا جواب جاوید اقبال چیمہ نے یہ کہتے ہوئے دیا کہ ’یہ کہنا آسان ہے کرنا نہیں۔‘

لیکن آڈیو ویڈیو کی اس جدید دنیا میں صوتی ریکارڈنگ کو کم از کم پاکستانی عدالت میں بطور ثبوت ابھی تک تسلیم کرنےکی ماضی میں کوئی روایت نہیں ہے۔ برگیڈیئر چیمہ کے اعلان کے باوجود آڈیو صحافیوں کو پہلی بریفنگ میں نہ سنانے سے بھی خدشات نے جنم لیا۔

پاکستانی فوج کے تین سو اغوا شدہ سپاہیوں سے انٹرویو کے لیے جب جنوبی وزیرستان اس سال ستمبر میں پہنچا تو بیت اللہ سے تو ملاقات تو نہیں ہوئی لیکن اس کے ترجمان ذوالفقار محسود سے بےنظیر کے بیانات پر ردعمل کے لیے کہا تو اس نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ وہ تو ایک عورت ہے اسے وہ اہمیت نہیں دیتے۔ اس سے محسوس ہوا کہ قبائلی شدت پسند محترمہ کو کوئی زیادہ سنجیدگی سے نہیں لے رہے تھے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ بیت اللہ محسود نے دو قابل اعتماد ذرائع کے ذریعے انہیں پیغام بھیجا تھا کہ ان کی محترمہ بےنظیر بھٹو سے کوئی دشمنی نہیں اور نہ ہی وہ کراچی میں اٹھارہ اکتوبر کے حملے میں ملوث تھے۔

بعض لوگ حکومت کی جانب سے فوراً بےنظیر کے قتل کی ذمہ داری بیت اللہ محسود پر ڈالنے کے عمل پر بھی سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔ اس کا بظاہر مقصد بین الاقوامی اور اندرونی دباؤ کا مقابلہ کرنا تھا لیکن اس جلد بازی نے مزید کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

حکومت کی اب یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ثابت کرے کہ یہ یہ گفتگو واقعی بینظیر بھٹو کے قتل سے متعلق تھی یا نہیں۔

اسی بارے میں
جن سوالوں کا جواب نہیں
29 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد