حکومتی بیانات سے معمہ الجھ رہا ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگرچہ حالیہ مہینوں میں ہونے والے خودکش بم حملوں کی تحقیقات میں کوئی واضح پیش رفت نہیں ہو سکی لیکن جمعرات کو بینظیر بھٹو پر حملے کے بارے میں حکومتی بیانات نے صورت حال کو تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی الجھا دیا ہے۔ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے کچھ ہی دیر بعد ہسپتال کے ڈاکٹروں کی طرف سے یہ بیان آیا کہ ان کی موت سر اور گردن میں گولی لگنے سے ہوئی ہے۔ پھر اسی روز رات کو نگران وزیر داخلہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی بینظیر بھٹو سر پر بم کا تیزدھار ٹکڑا لگنے کی وجہ جاں بحق ہوئی ہیں۔ ابھی اس واقعہ کو رونما ہوئے چوبیس گھینٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ راولپنڈی جنرل ہسپتال کے ڈاکٹر مصدق حسین نے پریس کانفرنس میں یہ بتایا کہ بے نظیر بھٹو کی موت سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے ہوئی۔ ایسا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک ڈاکٹر کو اپنے بیان کی وضاحت کرنے کے لیے پریس کانفرنس کرنا پڑی ہو اور عام تاثر یہی ہے کہ انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ابھی پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کی قبر کی مٹی حشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ وزارت داخلہ کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس کرڈالی جس میں کہا گیا کہ
پریس کانفرنس میں یہ دعوی کیا گیا کہ اس واقعہ کے ذمہ دار بیت اللہ محسود ہیں ۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے وہ بات چیت بھی ریکارڈ کر لی جس میں، بقول حکومت، بیت اللہ محسود ا ور ان کا ایک ساتھی ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ جب تک بینظیر بھٹو کی تدفین نہیں ہوئی تھی اس وقت تک حکومت کی طرف سے کوئی بیان نہیں آیا تھا لیکن پھر اچانک حکومت نے یہ بات چیت بھی ٹریس کرلی اور اس دھماکے کی ذمہ داری کا بھی تعین کردیا گیا۔ بیت اللہ محسود کے ترجمان نے پاکستانی حکومت کے اس الزام کو مسترد کردیا ہے۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی نے بھی حکومتی موقف کو مسترد کردیا اور پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ حکومت اصل چہروں کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں کسی بھی واقعہ کی تحقیقات کے سلسلے میں وقت درکار ہوتا ہے اور تحقیقاتی ادارے واقعہ کی چھان بین کرکے اصل چہروں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ لیکن یہاں پولیس نے چند ہی گھنٹوں میں اس سانحہ کا سراغ لگا لیا جبکہ اس کے برعکس اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں پیپلز پارٹی کے استقبالیہ جلوس پر ہونے والے بم دھماکے اور خودکش حملوں کا سراغ ابھی تک نہیں لگایا جا سکا ہے۔ اس حنلے میں ایک سو تیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حوالے سے حکومت نے ڈی ائی جی منظور مغل کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی جس پر پیپلز پارٹی نے عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور اس کی تحقیقات غیر ملکی ماہرین سے کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایڈیشنل آئی جی سی آئی ڈی پنجاب چوہدری عبدالمجید کی سربراہی میں قائم تحقیاتی ٹیم نے جمعرات کے واقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہیں لیکن ابھی تک انہیں قابل زکر کامیابی نہیں ملی۔ اس تفتیشی ٹیم میں شامل ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو جائے واقعہ سے ایک تیس بور کا پستول اور ایک گولی کا خول ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو جو ابھی تک شواہد ملے ہیں ان میں خودکش حملہ آور ایک ہی تھا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ چند ماہ میں راولپنڈی میں جو خودکش حملے ہوئے ہیں ان میں سے کسی کا بھی سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ سانحہ راولپنڈی کے بارے میں تیزی سے بدلتے ہوئے حکومتی بیانات پر پاکستانی عوام اور بلخصوص پیپلز پارٹی کے کارکن اعتماد کرتے ہوئے نظر نہیں آتے، تاہم یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے۔ |
اسی بارے میں زرداری سے مشرف کی تعزیت29 December, 2007 | پاکستان تعزیت کے لیے نواز شریف کے نوڈیرو پہنچنے پر پنجاب کے خلاف نعرے بازی29 December, 2007 | پاکستان سندھ کیوں جل رہا ہے؟29 December, 2007 | پاکستان طالبان کی طرف سے دعوے کی تردید29 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||