بینظیر کو گولی لگی: شیری رحمان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی نے بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بارے میں حکومت کی وضاحت مسترد کر دی ہے۔ حکام نے کہا تھا کہ بینظیر بھٹو کی موت گاڑی کے سن روف میں لگے لیور سے ٹکرانے سے ہوئی۔ پی پی پی کی سیکرٹری اطلاعات شیری رحمان نے حکومت کے اس دعوے کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا اور کہا کہ ان کےسر میں گولی لگی تھی۔ بینظیر بھٹو پر حملے کے وقت شیری رحمان ان کی گاڑی سے پچھلی کار میں تھیں۔ حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ وہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بارے میں شکوک و شبہات دور کرنے کی غرض سے دوبارہ قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے تیار ہیں اگر ان کے اہل خانہ اس پر تیار ہوں۔ حکومت نے بیت اللہ محسود کے اس انکار کو بھی مسترد کر دیا ہے کہ وہ اس قتل میں ملوث نہیں۔
دریں اثناء وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ دو روز کے ہنگاموں میں اب تک اڑتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اربوں روپے کی سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس دوران سو سے زائد قیدی بھی جیلوں سے فرار ہونے میں کامیاب رہے ہیں۔ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے کچھ ہی دیر بعد ہسپتال کے ڈاکٹروں کی طرف سے یہ بیان آیا تھا کہ ان کی موت سر اور گردن میں گولی لگنے سے ہوئی ہے۔ پھر اسی روز رات کو نگران وزیر داخلہ نے کہا کہ بینظیر بھٹو سر پر بم کا تیزدھار ٹکڑا لگنے کی وجہ جاں بحق ہوئی تھیں۔ راولپنڈی جنرل ہسپتال کے ڈاکٹر مصدق حسین نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ بینظیر بھٹو کی موت سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے ہوئی۔ اس کے بعد وزارت داخلہ کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بینظیر بھٹو کی موت گاڑی کے سن روف کا ہینڈل لگنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔
پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس واقعہ کے ذمہ دار بیت اللہ محسود ہیں۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے وہ بات چیت بھی ریکارڈ کی ہے جس میں، بقول حکومت، بیت اللہ محسود ا ور ان کا ایک ساتھی ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے۔ تاہم ہفتے کی صبح بیت اللہ محسود کے ترجمان نے پاکستانی حکومت کے اس الزام کو مسترد کردیا۔ اس کےعلاوہ پیپلز پارٹی نے بھی حکومتی موقف کو مسترد کردیا اور پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ حکومت اصل چہروں کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی سی آئی ڈی پنجاب چوہدری عبدالمجید کی سربراہی میں قائم تحقیاتی ٹیم نے جمعرات کے واقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ اس تفتیشی ٹیم میں شامل ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو جائے واقعہ سے ایک تیس بور کا پستول اور ایک گولی کا خول ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو ابھی تک جو شواہد ملے ہیں ان میں خودکش حملہ آور ایک ہی لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مبینہ خودکش حملہ آور کے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ ابھی نہیں آئی ہے۔ |
اسی بارے میں زرداری سے مشرف کی تعزیت29 December, 2007 | پاکستان نواز شریف اور زرداری کی ملاقات29 December, 2007 | پاکستان سندھ کیوں جل رہا ہے؟29 December, 2007 | پاکستان طالبان کی طرف سے دعوے کی تردید29 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||