چھتیس فیکٹریاں تباہ، کرفیو کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی ایوان تجارت و صنعت کے سابق صدر نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ شہر کے صنعتی علاقوں میں فوری طور پر فوج بھیجی جائے اور کرفیو نافذ کیا جائے تا کہ مزید صنعتیں تباہ ہونے سے محفوظ رہ سکیں۔ ادھر شہر میں ہنگامہ آرائی کی جاری ہے، جس دوران پاکستان کے خلائی اداے سپارکو کے دفتر پر حملہ کی کوشش کی گئی ہے اور شہر میں اشیائے خورد اور ایندھن کی شدید قلت ہوگئی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایوان تجارت و صنعت کے سابق صدر اور صنعتکار زبیر موتی والا نے کہا کہ گزشتہ تین دنوں کے دوران کراچی کے صنعتی علاقوں میں بیس سے زائد فیکٹریوں کو آگ لگائی گئی ہے جبکہ حیدرآباد کے قریب کوٹری میں سولہ فیکٹریوں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں کورنگی انڈسٹریل ایریا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں صنعتی یونٹس اب بھی غیرمحفوظ ہیں کیونکہ وہاں فوج تو درکنار پولیس اور رینجرز بھی موجود نہیں ہے۔
’ہمیں بتایا گیا تھا کہ کل (جمعہ کی) رات آٹھ بجے فوج کورنگی انڈسٹریل ایریا کا کنٹرول سنبھال لے گی اور علاقے میں کرفیو لگادیا جائے گا لیکن اب تک وہاں نہ فوج پہنچی ہے اور نہ ہی کرفیو لگایا گیا ہے۔‘ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ کورنگی انڈسٹریل ایریا، لانڈھی، سائیٹ، فیڈرل بی ایریا، نارتھ کراچی، بن قاسم اور اسٹیل ٹاؤن سمیت صوبے کے دوسرے صنعتی علاقوں میں کرفیو نافذ کیا جائے۔ زبیر موتی والا نے بینظیر بھٹو کے قتل پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ پاکستان کے لئے بہت بڑا نقصان ہے جس کا شاید کبھی ازالہ نہ ہوسکے لیکن ہمیں اس ملک کو بھی زندہ رکھنا ہے اور اسکے لوگوں کو بھی زندہ رکھنا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارتے ہیں اور یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں ان کی حالت بہت خراب ہے۔ ’ہمیں ان کا بھی سوچنا چاہیے اور ہمیں اس بات کو بھی دیکھنا چاہیے کہ پاکستان ہیں تو ہم ہیں۔‘ زبیر موتی والا نے کہا کہ شہر میں پچھلے تین دنوں سے مکمل بے یقینی کی فضاء ہے اور افواہوں کا بازار گرم ہے۔
’بڑا عجیب ماحول ہے، یہ نہیں پتہ کہ کل کیا ہونے والا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی طوفان آنے والا ہے، ایسے میں حکومت کو آگے آکر سختی کے ساتھ صورتحال پر قابو پانا چاہیے۔‘ دوسری جانب محکم داخلہ حکومت سندھ کے سیکرٹری غلام محمد محترم کا کہنا ہے کہ کورنگی انڈسٹریل ایریا اور سائیٹ کے علاقوں میں فوج ہے اور ان اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں کہ وہاں سیکیورٹی فورس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوٹری کے صنعتی علاقے میں بھی رینجرز کو تعینات کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ کراچی میں لگ بھگ پانچ ہزار چھوٹے بڑے کارخانے ہیں اور وفاقی حکومت کو ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدن کا پینسٹھ فیصد کراچی سے حاصل ہوتا ہے۔ دریں اثناء کراچی میں ہنگامہ آرائی کی جاری ہے، جس دوران پاکستان کے خلائی اداے سپارکو کے دفتر پر حملہ کی کوشش کی گئی ہے اور شہر میں اشیائے خورد اور ایندھن کی شدید قلت ہوگئی ہے۔ شہر کی سڑکیں تیسرے روز (سنیچر کو) بھی ویران ہیں، کورنگی، لیاری، سچل گوٹھ اور ملیر میں ہنگامہ آرائی کی اطلاعات ہیں۔ سچل گوٹھ کے علاقے میں سینکڑوں لوگوں نے پاکستان کے خلائی تحقیق کے ادارے سپارکو کے دفتر پر حملہ کی کوشش کی، اس دوران پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری پہنچ گئی۔ پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کرکے انہیں منتشر کردیا، تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
کورنگی میں مزید دو فیکٹریوں اور سائیٹ ایریا میں کچھ دکانوں کو نذر آتش کردیا گیا ہے۔ لیاری میں فائرنگ کا سلسہ جاری ہے، جس میں ایک شخص شدید زخمی ہوگیا ہے۔ دوسری جانب تین روز سے کراچی میں پان بیڑی سے لیکر تمام چھوٹے بڑے بازار اور مارکیٹیں بند ہیں۔ سپر ہائی وے اور نیشنل ہائی وے ہنگامہ آرائی کے بعد ٹرانسپورٹ مکمل طور پر آمد و رفت بند ہے۔ شہر میں اشیائے خورد و نوش کی کمی کا سامنا ہے۔ ایک خاتون حنا صدیقی کا کہنا تھا کہ ’گھروں میں بچوں کے لیے دودھ نہیں سبزی وغیرہ بھی نہیں ہے، جو راشن موجود ہے اسے بھی بہت احتیاط سے استعمال کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ معلوم نہیں ہے کہ کیا ہوجائے۔‘ شہر میں تمام پیٹرول پمپ بند ہیں اور ایندھن کی کمی کی وجہ سے لوگوں کی نقل و حرکت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسو سی ایشن کا کہنا ہے کہ شہر میں بیس پمپ اور فلنگ سٹیشن جلائے گئے ہیں۔ تنظیم کے رہنما عبدالسمیع خان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ ایندھن کی کمی ہو مگر ان حالات میں وہ پمپ کیسے کھول سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم نے حکومت کو کہا ہے کہ اگر فوج تحفظ فراہم کرے تو کچھ علاقوں میں وہ پمپ کھولنے کے لیے تیار ہیں، تاہم کافی پمپوں پر ملازم بھی موجود نہیں ہیں۔ ہنگامہ آرائی سے ملک کے سب سے بڑے فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کو بھی سخت دشواری کا سامنا ہے۔ کراچی سمیت اندرون سندھ ادارے کی چالیس ایمبولینس گاڑیاں نذر آتش کی گئی ہیں جبکہ چھ سینٹروں پر حملے کیے گئے ہیں۔ عبدالستار ایدھی کے بیٹے رضوان ایدھی کا کہنا ہے کہ شکارپور، پنوعاقل، سیہون، ماتلی، جھڈو، ٹنڈو جام میں انکے سینٹروں کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جلائی جانے والی ایمبولینس گاڑیاں اندرون سندھ میتیں لیکر جا رہی تھیں کہ ان میں سے میتیں اتار کر گاڑیاں جلا دی گئیں اور ڈرائیوروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سپر ہائی وے پر واقعہ ایدھی ولیج پر نامعلوم افراد نے حملہ کر کے وہاں موجود سولہ ایمبولینسوں کو نذر آتش کردیا گیا۔ ایدھی ولیج میں معذور اور لاوارث لوگوں کو رکھا جاتا ہے۔ رضوان ایدھی کا کہنا ہے کہ ان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ادھر کراچی کے کئی علاقوں میں بینظیر بھٹو کی غائبانہ جنازہ نماز بھی ادا کی گئی ہے اور عوامی نیشنل پارٹی نے اتوار کو ہڑتال کی اپپل کی ہے۔ |
اسی بارے میں احتجاج اور ہنگاموں کا سلسلہ جاری29 December, 2007 | پاکستان بینظیر قتل: حِصص بازار میں مندی 28 December, 2007 | پاکستان سندھ میں سات اسٹیشن نذرآتش28 December, 2007 | پاکستان کراچی: فائرنگ، چھ افراد ہلاک28 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||