سندھ میں مرنے والوں کی تعداد 39 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت سندھ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی چپئرپرسن بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد ہنگاموں میں اب تک 39 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں صرف کراچی میں فوت ہونے والے 21 افراد شامل ہیں۔ محکمہ داخلہ حکومت سندھ کے سیکریٹری غلام محمد محترم نے بتایا کہ ہلاک شدگان میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہنگامہ آرائی کے دوران 67 افراد زخمی ہوئے۔ املاک کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ جمعرات سے شروع ہونے والے بلووں کے دوران سنیچر کی دوپہر ایک بجے تک صوبے میں مجموعی طور پر 947 اور صرف کراچی میں 672 چھوٹی بڑی گاڑیاں جلائی گئیں۔ ان کے مطابق صوبے میں مختلف بینکوں کی 131 برانچوں کو جلاکر تباہ کیا گیا جن میں زیادہ تر بینک حیدرآباد ریجن میں واقع ہیں جبکہ کراچی میں 13 بینک نذر آتش ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی کے سات پیٹرول پمپس سمیت صوبے بھر میں 31 پیٹرول پمپس کو نذرآتش کیا گیا اور گیارہ فیکٹریوں کو آتشزدگی سے مکمل یا جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ تاہم ہنگاموں کے دوران آتشزدگی سے تباہ ہونے والی دوکانوں اور سرکاری دفاتر کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ تفصیلات اب تک جمع نہیں ہوسکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے کراچی میں 208 اور پورے صوبے میں مجموعی طور پر 409 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ |
اسی بارے میں سندھ: ہنگامے، فوج الرٹ28 December, 2007 | پاکستان قمبر، لاڑکانہ میں فوج تعینات 28 December, 2007 | پاکستان ’بیت اللہ محسود ذمہ دار ہیں‘28 December, 2007 | پاکستان اب یہ علم کون اٹھائےگا؟28 December, 2007 | پاکستان پاکستان کے لیے اب کیا؟28 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||