پی پی پی: وزارت عظمیٰ کا مسئلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی عام انتخابات کو دو ہفتے گزرجانے کے باوجود اس بات کا فیصلہ نہیں کر پائی ہے کہ ملک کا آئندہ وزیر اعظم کون ہوگا۔ اب تک یہی خیال ظاہر کیا جارہا تھا کہ پیپلز پارٹی کے پاس وزارت عظمی کے سب سے مضبوط امیدوار ہالا کے مخدوم امین فہیم ہیں تاہم پچھلے چند دنوں سے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں ایک نئی خبرگرم ہے کہ مخدوم امین فہیم کے بجائے پارٹی قیادت نے کچھ اور ناموں پر غور شروع کردیا ہے جن کا تعلق پنجاب سے ہے۔ اس کی دو وجوہات بتائی جارہی ہیں ایک تو یہ کہ مخدوم امین فہیم نے پارٹی قیادت کو بے خبر رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں اسلام آباد کی بعض مقتدر شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں اور دوسرا یہ کہ پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری دراصل خود وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں لیکن چونکہ انہیں قومی اسمبلی کی کسی نشست سے ضمنی انتخاب لڑ کر اسمبلی میں پہنچنے میں وقت لگے گا اس لیے وہ فی الوقت پارٹی کے کسی رہنما کو وقتی طور پر وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں تاکہ بعد میں جب وہ منتخب ہوکر اسمبلی میں پہنچ جائیں تو خود وزیر اعظم بن سکیں۔
پیپلز پارٹی نے اگرچہ ان خبروں کی تردید کی ہے لیکن اس کا یہ ضرور کہنا ہے کہ پارٹی قیادت وزارت عظمی کے لیے ایک سے زیادہ ناموں پر غور کررہی ہے یعنی صرف مخدوم امین فہیم ہی نہیں کچھ اور امیدوار بھی ہیں جن میں سے کسی ایک کو اس اہم عہدے کے لیے نامزد کیا جاسکتا ہے۔ اب تک ان امیدواروں میں یوسف رضا گیلانی، مخدوم شاہ محمود قریشی اور چوہدری احمد مختار کے نام سامنے آئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی نے یہ اختیار آصف علی زرداری کو دیا ہے کہ وہ جسے بہتر سمجھیں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کریں۔ تاہم خود مخدوم امین فہیم کہہ رہے ہیں کہ آئندہ وزیر اعظم کون ہوگا اس کا فیصلہ وہ اور آصف زرداری صلاح مشورے سے کریں گے۔ بظاہر اب تک ان خبروں کا اصل محور آصف زرداری ہیں اور حقیقت کچھ بھی ہو ان اخباری رپورٹوں نے انہیں انتخابات کے فوری بعد ایک بار پھر متنازعہ ضرور بنا دیا ہے۔ لیکن بے نظیر بھٹو کے قتل سے لےکر اب تک انہوں نے حکومت سازی کے بارے میں جو بیانات دیے ہیں ان جائزہ لیا جائے تو بظاہر انہوں نے اس تاثر کی نفی ہی کی ہے کہ وہ خود وزیر اعظم بننے کے خواہاں ہیں۔
اسی طرح بے نظیر بھٹو کے چہلم کے اجتماع سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ ’لوگ سمجھتے ہیں کہ شہید بی بی مجھے کرسی سے باندھ کر گئی ہیں جبکہ وہ مجھے اپنی قبر سے باندھ کر گئی ہیں‘۔ انتخابات سے چند روز قبل امریکی جریدے نیوز ویک نے آصف زرداری کا ایک انٹرویو شائع کیا جس میں کہا گیا کہ انہوں نے اپنے وزیر اعظم بننے کے امکان کو یہ کہتے ہوئے رد نہیں کیا ہے کہ ’ہوسکتا ہے کہ میں پیپلز پارٹی کی طرف سے وزیر اعظم کا امیدوار ہوں‘ کیونکہ ان کے بقول پیپلز پارٹی میں ان کے علاوہ ایک بھی ایسی شخصیت نہیں ہے جسے کوئی جانتا بھی ہو یا جس پر اتفاقِ رائے ہو۔ تاہم بعد میں نوڈیرو میں بے نظیر بھٹو کے قتل پر تعزیت کے لیے ملاقات کرنے والے کراچی پریس کلب کے وفد سے گفتگو میں انہوں نے اس خبر کی تردید کی اور کہا کہ ان کی بات کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
انتیس فروری کو آصف زرداری کی اسلام آباد میں رہائشگاہ پر مدعو کیے گئے بعض صحافیوں نے جب ان سے پوچھا کہ کیا وہ خود وزیر اعظم بننے کی خواہش رکھتے ہیں تو ان کا جواب تھا ’اس سے بڑا اور کوئی لطیفہ ہو نہیں سکتا، میں اس قومی اسمبلی کی آئینی مدت کے دوران وزارت عظمی کا عہدہ نہیں لوں گا اور مستقبل میں بھی کبھی وزیر اعظم بننے کی کوشش نہیں کروں گا‘۔ اگر آصف زرداری نے خود وزیر اعظم بننے کی یا کسی کمزور امیدوار کو وزیر اعظم بنانے کی کوشش کی جو ان کے زیر اثر رہے تو شاید ریکارڈ پر موجود ان کے اپنے ہی بیانات ان کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں سندھ کے چیلنج اور حکومت سازی24 February, 2008 | الیکشن 2008 پی پی:مزید حمایت حاصل کرنےکادعوٰی22 February, 2008 | الیکشن 2008 زرداری،ولی مخلوط حکومت پرمتفق21 February, 2008 | الیکشن 2008 ’مستعفی ہونے کا ارادہ نہیں‘ مشرف20 February, 2008 | الیکشن 2008 حکومت سازی کی کوششوں کا آغاز20 February, 2008 | الیکشن 2008 زرداری کے خلاف تفتیش پر زور20 February, 2008 | الیکشن 2008 پاکستان کا سیاسی منظر تبدیل، مشرف حامیوں کی ہار19 February, 2008 | الیکشن 2008 مشرف مستعفی ہو جائیں: زرداری19 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||