سندھ کے چیلنج اور حکومت سازی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کے بعد صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی اکیلے ہی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے اگرچہ اب تک یہ طے ہونا باقی ہے کہ وہ صوبے کی دوسری اکثریتی جماعت ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر حکومت بناتی ہے یا تنہا لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ صوبائی حکومت کو کئی طرح کے سیاسی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ صحافی اور تجزیہ کار اسلم خواجہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ آٹھ سالوں سے اقتدار سے باہر رہنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت سے بے تحاشا عوامی توقعات وابستہ ہیں اور لوگ یہ چاہیں گے کہ وہ صوبائی خودمختاری اور مالی اور آبی وسائل کی تقسیم سے جڑے مسائل حل کرے یہی اس کے لئے سب سے بڑا سیاسی چیلنج ہوگا۔ ’ماضی کی حکومتوں کی طرح پیپلز پارٹی کی حکومت کو بھی صوبائی خودمختاری کا ایک بڑا مسئلہ درپیش ہوگا اس میں خاص طور پر سندھ کے مالی وسائل پر سندھ کا حق تسلیم کیا جانا اور پانی کی منصفانہ تقسیم کا مسئلہ ہوگا۔ بنیادی طور پر دیکھنا یہ ہوگا کہ سندھ سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کتنا حصہ صوبے پر خرچ کیا جاتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ سندھ میں آباد مختلف برادریوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے جو کہ بنیادی طور پر معاشی ناہمواری کا اظہار ہے اور اگر صوبوں کو خودمختاری ملتی ہے تو سندھ کے پاس زیادہ مالی وسائل ہوں گے اور حکومت کو صوبے کو ترقی دینے کا زیادہ موقع ملے گا اس سے مختلف برادریوں کے درمیان پایا جانے والا تناؤ اور تفریق بھی کم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے لئے دوسرا بڑا چیلنج صوبے میں امن و امان کا قیام ہے۔ ’سندھ میں امن و امان کا مسئلہ انتہائی شدت اختیار کرچکا ہے خاص کر پچھلے پانچ آٹھ سالوں کے دوران۔ شہری علاقوں میں اسٹریٹ کرائم اور اندرون سندھ قبائلی جھگڑوں اور ڈاکوؤں کا مسئلہ ہے، پھر پرویز مشرف کے دور میں اندرون سندھ میں جرگہ سسٹم زیادہ مضبوط ہوا ہے جس کے باعث قبائلی تنازعے کم ہونے کے بجائے بڑھے ہیں۔‘ معاشی ماہر اور سماجی کارکن اسد سعید کہتے ہیں کہ ورلڈ بینک کی ایک اسٹڈی کے مطابق 1999 سے 2002ء تک سندھ میں غربت میں اضافہ پورے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہوا اس لئے صوبے میں بیروزگاری اور غربت میں کمی کے لئے حکومت کو اقدامات کرنا ہوں گے۔ ’خاص کر حکومت کو زراعت کی ترقی اور نہری پانی کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے اور صوبے کے مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم پر بھی زیادہ توجہ دینا ہوگی کیونکہ پچھلی حکومت میں سماجی ترقی کا عمل ناہموار رہا اور دیہی علاقوں کے مقابلے میں شہری علاقوں کو زیادہ توجہ دی گئی۔‘ پچھلی صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نثار احمد کھوڑو پیپلز پارٹی کے ان چند نومنتخب ارکان اسمبلی میں شامل ہیں جو آنے والی حکومت میں ممکنہ طور پر وزیر اعلی ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا ادراک ہے کہ لوگوں کی توقعات کے مقابلے میں مسائل زیادہ ہیں۔ ’مسائل کا تو انبار ہے ہماری انتظامیہ پچھلے برسوں میں ناقص رہی یقیناً اس کو بھی دیکھنا چاہیے اور پبلک سیکٹر کو بھی نظرانداز کیا گیا اس کو بھی دیکھنا پڑے گا اس میں خواہ صحت ہو، تعلیم ہو، پبلک ورکس ہوں یا لوکل باڈیز ہوں پھر امن و امان اور بیروزگاری کے مسائل ہیں جو آنے والی حکومت کو کچھ اور سوچنے کی مہلت ہی نہیں دیں گے۔‘ واضح رہے کہ سندھ اسمبلی میں کل 130 جنرل نشستوں میں سے 71 نشستیں حاصل کرکے پیپلز پارٹی پہلے اور سینتیس نشستوں کے ساتھ ایم کیو ایم دوسرے نمبر پر ہے، دونوں جماعتوں کی قیادت نے ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے شریک چئرپرسن آصف علی زرداری اور متحدہ قومی موومینٹ کے قائد الطاف حسین نے الیکشن کے بعد پہلی بار آدھے گھنٹے تک ٹیلی فون پر بات چیت بھی کی جس میں دونوں نے ایک دوسرے سے غیرمشروط تعاون کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ حالیہ انتخابات میں دونوں جماعتوں میں ایک قدر مشترک یہ بھی رہی ہے کہ وہ صوبوں کو خودمختاری دینے کی بات کررہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||