BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 May, 2008, 16:17 GMT 21:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ضمنی انتخابات اب چھبیس جون کو

 الیکشن کمیشن
کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی تاریخ آٹھ مئی سے تیرہ مئی تک ہے:کنور دلشاد
الیکشن کمیشن نے ایک مرتبہ پھر ملک میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے شیڈول میں تیسری مرتبہ تبدیلی کر دی ہے اور اب یہ انتخابات اٹھارہ اگست کی بجائے چھبیس جون کو ہوں گے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے بی بی سی کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ سیاسی جماعتوں کے احترام میں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے مشاورت بھی کی گئی ہے۔ کنور دلشاد نے کہا کہ اس حوالے سے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی تاریخ آٹھ مئی سے تیرہ مئی تک ہے اور ان کا کہنا تھا کہ جن اُمیدواروں نے چھ مئی کو کاغذات نامزدگی داخل کروائے تھے وہ غیر قانونی ہیں اور انہیں دوبارہ کاغذات نامزدگی داخل کروانے پڑیں گے۔

تاہم سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ جن اُمیدواروں نے پانچ مئی تک اپنے کاغذات نامزدگی داخل کروائے تھے ان کو دوبارہ کاغذات جمع کروانے کی ضرورت نہیں ہے۔

ملک بھر میں یہ ضمنی انتخابات اڑتیس سیٹوں پر ہو رہے ہیں جن میں سے قومی اسمبلی کی آٹھ اور صوبائی اسمبلیوں کی تیس نشستیں شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن کے تازہ ترین شیڈول کے مطابق چودہ مئی سے بیس مئی تک کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال ہو گی جبکہ امیدواروں کی حتمی فہرست دو جون کو جاری کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن نے دو روز قبل صوبہ سرحد کی حکومت کے امن وامان کے بارے میں ایک خط اور آئندہ بجٹ کی تیاری میں سیاسی جماعتوں کی مصروفیت کو جواز بناتے ہوئے ان انتخابات کا نظر ثانی شدہ شیڈول جاری کیا اور یہ انتخابات اٹھارہ اگست کو کروانے کا اعلان کیا۔اس سے پہلے یہ انتخابات اٹھارہ جون کو کروانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

 ملک بھر میں یہ ضمنی انتخابات اڑتیس سیٹوں پر ہو رہے ہیں جن میں سے قومی اسمبلی کی آٹھ اور صوبائی اسمبلیوں کی تیس نشستیں شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو موجودہ حکمراں اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کے علاوہ حزب اختلاف میں شامل سیاسی جماعتوں نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

صوبہ سرحد کی حکومت کا کہنا تھا کہ انہوں نے صوبے میں امن وامان کی صورتحال خراب ہونے کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر برائے اموِر داخلہ رحمان ملک کے کہنے پر الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا جبکہ وزیر اطلاعات شیری رحمان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو اس کے فیصلوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ ضمنی انتخابات کی تاخیر کی ممکنہ وجہ مشیر داخلہ کی غلط فہمی تھی۔

ادھر سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کے اعلان کی تحقیقات کر رہی ہے تا کہ معلوم ہو سکے کہ ایسا کیوں ہوا اور اس میں کون کون ملوث ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد