BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 May, 2008, 23:42 GMT 04:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تنازع ختم ہونے کی بجائے بڑھ گیا
آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی (فائل فوٹو)
آصف علی زرداری نے ضمنی انتخابات کے التوا کے تناظر میں وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی
اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کی طرف سے اس بات کی تردید کی گئی کہ ضمنی انتخابات اب جون کے تیسرے یا چوتھے ہفتے میں کرائے جائیں گے۔الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی انتخابات اٹھارہ اگست ہی کو ہوں گے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار آصف فاروقی نے بتایا ہے کہ پیر کو سرحد حکومت کی وضاحت کے بعد کہ ضمنی انتخابات کا التواء مشیرِ داخلہ رحمٰن ملک کے کہنے پر ہوا ہے، منگل کے روز اسلام آباد میں کئی اہم اجلاس ہوئے لیکن صورتِ حال واضح نہیں ہو سکی۔

مختلف نجی چینلز پر ان خبروں کے بعد کہ ضمنی انتخابات ملتوی ہونے کے بعد پھر سے پہلے والے شیڈول کے مطابق ہوں گے، الیکشن کمیشن نے تردید کی کہ ابھی کسی نئی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے آخری اعلان کے مطابق، ضمنی انتخابات اٹھارہ اگست ہی کو ہوں گے۔

اس غیر یقینی صورتِ حال کے تناظر میں منگل کو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی جس میں اس معاملے پر کافی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ تاہم میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

بعض اطلاعات کے مطابق، آصف زرداری اور رحمٰن ملک کے درمیان وزیرِ اعظم سے ملاقات سے پہلے علیحدہ ملاقات بھی ہوئی۔

دریں اثناء ایوانِ صدر نے رات گئے اس بات کی تردید کی ہے کہ ضمنی انتخابات ملتوی ہونے کے معاملے سے اس کا کسی طرح کا کوئی تعلق ہے۔ خود وزیرِ اعظم کے قریبی حلقوں کا بھی یہ کہنا ہے کہ ضمنی انتخابات کے التوا یا کسی نئی تاریخ طے پانے سے ایوانِ وزیرِ اعظم کا کوئی تعلق ہے۔

ضمنی انتخابات سے متعلق تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ سرحد میں امن و امان کی وجہ سے ضمنی انتخابات اگست تک ملتوی کر دیئے گئے ہیں۔ اس پر وفاقی وزیرِ اطلاعات شیری رحمٰن نے اسے ایک سازش قرار دیا اور خود آصف علی زرداری نے اس اعلان کی مذمت کی۔

تاہم بعد میں سرحد حکومت نے ایک وضاحت جاری کہ صوبے میں ضمنی انتحابات وفاقی حکومت کی درخواست پر ملتوی کئے گئے ہیں اور اس سلسلے میں وفاقی مشیر داخلہ رحمان ملک نے صوبائی وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی سے انتخابات ملتوی کرانے کےلئے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا۔

نجی چینلز کےمطابق الیکشن کمیشن کے سیکریٹری نے منگل کو نواز لیگ کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کی اور ضمنی انتخابات کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔

اس سے قبل مسلم لیگ نواز کے ترجمان نے مطالبہ کیا کہ چونکہ مشیرِ داخلہ رحمٰن ملک نے ’سازش‘ کرتے ہوئے انتخابات ملتوی کرائے ہیں جس کا اعلیٰ ترین سطح پر بھی کسی کو کوئی علم نہیں، لہذا ان کے خلاف فوری انکوائری کی جائے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ مشیرِ داخلہ نے انتخابات ملتوی کروا کے لوگوں کو ان کے حقِ رائے دہی سے محروم کیا ہے اور یہ آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔

اسی بارے میں
خاران میں ضمنی انتخابات
28 May, 2005 | پاکستان
این اے 127 پر ضمنی انتخابات
06 January, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد