BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 April, 2008, 08:45 GMT 13:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ضمنی انتخابات کے شیڈول کا اعلان

الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے سینیٹ کی پانچ نشستوں پر بھی انتخابات کروانے کے شیڈول کا اعلان کیا ہے
الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی آٹھ اور صوبائی اسمبلی کی تیس نشستوں پر تین جون کو انتخابات کروانے کے شیڈول کا اعلان کردیا۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی ان نشستوں پر انتخابات ایک ہی دن ہوں گے۔

قومی اسمبلی کی آٹھ نشستوں میں سے چھ نشستیں ان ارکان قومی اسمبلی نے خالی کی ہیں، جو ایک سے زائد نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے۔ جبکہ قومی اسمبلی کی دواور صوبائی اسمبلی کی آٹھ نشستوں پر اُمیدواروں کی موت کے بعد وہاں پر عام انتخابات نہیں ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے سینیٹ کی پانچ نشستوں پر بھی انتخابات کروانے کے شیڈول کا اعلان کیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی فاروق نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں ان انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان انتخابات کے لیے کاغزات نامزدگی پندرہ سے اکیس اپریل تک جمع کروائے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کاغذات کی جانچ پڑتال بائیس اپریل سے اٹھائیس اپریل تک ہوگی۔ کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی صورت میں دو مئی کو اپیل دائر کی جاسکتی ہے جبکہ اُمیدواروں کی حتمی فہرست گیارہ مئی کو آویزاں کردی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں انتحابی مہم یکم جون کو ختم ہوجائےگی۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ان اتحابات کے انعقاد کے سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کئے گئے ہیں اور اس ضمن میں ریٹرننگ اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن آج جاری کیا جائے گا۔

 قومی اسمبلی کی آٹھ نشستوں میں سے چھ نشستیں ان ارکان قومی اسمبلی نے خالی کی ہیں، جو ایک سے زائد نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے جبکہ قومی اسمبلی کی دواور صوبائی اسمبلی کی آٹھ نشستوں پر اُمیدواروں کی موت کے بعد وہاں پر عام انتخابات نہیں ہوئے تھے

انہوں نے کہا کہ ایک سے زائد نشستوں پر منتخب ہونے والے ارکان قومی اسمبلی نے آئین کی دفعہ دو سو تئیس کے تحت خالی کی ہیں۔ جن ارکان نے قومی اسمبلی نے اپنی نشستیں خالی کی ہیں۔ ان میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے مخدوم جاوید ہاشمی سرفہرست ہیں جو اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے دوران تین نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے جس میں سے ملتان کی ایک نشست انہوں نے اپنے پاس رکھی ہے۔ جبکہ لاہور اور راولپنڈی کی نشست انہوں نےخالی کردی ہے۔

راولپنڈی سے انہوں نے سابق وزیر اور صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے قریبی ساتھی شیخ رشید کو شکست دی تھی۔

قاضی محمد فاروق نے کہا کہ ’جن قومی اسمبلی کے حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوں گے ان میں این اے گیارہ، این اے باون، این اے پچپن، این اے ایک سو تئیس ،این اے ایک سو اکتیس اور این اے ایک سو اڑتالیس شامل ہیں جبکہ قومی اسمبلی کے حلقوں این اے ایک سو انیس اور این اے دو سو سات میں امیدواوں کی وفات کی وجہ سے ان حلقوں پر انتخابات منعقد نہیں ہوسکے تھے۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کی وجہ سے این اے دو سو سات میں انتخابات نہیں ہو سکے تھے اسی طرح حلقہ این اے ایک سو انیس میں مسلم لیگ قاف کے اُمیداور طارق بانڈے کی وفات کی وجہ سے وہاں پر انتخابات منعقد نہیں ہوسکے تھے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ’صوبائی اسمبلیوں کی بائیس نشستوں میں سے صوبہ پنجاب کی بارہ، صوبہ سندھ کی تین ،صوبہ سرحد کی پانچ اور صوبہ بلوچستان کی دو صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سینٹ کی پانچ نشستوں پر انتخابات تین اور چھ مئی کو ہوں گے۔ قاضی فاروق نے کہا کہ صوبہ سرحد سے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیارولی اور پاکستان مسلم لیگ نون کے سردار مہتاب عباسی کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے ارکان منتخب ہونے پر انہوں نے سینیٹ کے رکن کی حیثیت سے استعفی دے دیا ہے جبکہ فاٹا سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی حمید اللہ جان آفریدی نے سینٹ کی رکنیت سے استعفی دے دیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سینٹ کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی اکیس اپریل کو جمع ہوں گے اور ان کاغذات کی جانچ پڑتال بائیس اپریل کو، کاغذات نامزدگی مسترد ہونےکی صورت میں چوبیس اپریل کو جبکہ ان اپیلوں پر فیصلے چھبیس اپریل کو ہوں گےاور کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ اٹھائیس اپریل ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ سرحد میں سینٹ کے انتخابات تین مئی کو جبکہ بلوچستان میں سینٹ کی دو نشستوں پر انتخابات چھ مئی کو ہوں گے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں سینٹ کی دو نشستیں مسلم لیگ قاف کے سینیٹر محمد سرورکاکڑ کی وفات اور مولوی آغا محمد کی طرف سے مستعفیٰ ہونے کی بناء پرخالی ہوئی تھیں۔ چیف الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ انتخابات کے نتائج خوش دلی سے قبول کریں۔

اسی بارے میں
حتمی نتائج پانچ مارچ سے پہلے
28 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد