’پوسٹل بیلٹس 4 کے بجائے18 لاکھ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اٹھارہ فروری کے مجوزہ انتخابات میں پوسٹل بیلٹ یعنی ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے عمل پر اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں نے سخت اعتراضات کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ق) کو فائدہ پہنچانے کے لیے فریق بن گیا ہے۔ مسلم لیگ نواز کے سرکردہ رہنما اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اٹھارہ فروری کے مجوزہ انتخابات کے لیے اٹھارہ لاکھ پوسٹل بیلٹ پیپرز شائع کرائے ہیں جبکہ، ان کے بقول، سنہ دو ہزار دو کے انتخابات میں اس طرح کے بیلٹ پیپرز کی تعداد چار لاکھ تھی۔ ’ہم سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن فریق بن گیا ہے اور جہاں بھی حکومتی امیدواروں کے ووٹ کم ہوں گے وہاں جعلی پوسٹل ووٹوں سے انہیں جتوایا جائے گا۔‘ اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ مسلم لیگ نواز نے الیکشن کمیشن کو اس بارے میں تحریری طور اپنے خدشات سے مطلع کیا ہے لیکن تاحال کوئی جواب ملا ہے اور نہ ہی شکایات کا کوئی ازالہ کیا گیا ہے۔ عام انتخابات کے لیے شائع کردہ پوسٹل بیلٹ پیپرز کی تعداد اور ان کے اجراء کے بارے میں جب الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کنور محمد دلشاد سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ’معلوم نہیں کتنے پوسٹل بیلٹ پیپرز شائع کیے ہیں۔ ویسے بھی اس سے الیکشن کمیشن کا اب تعلق نہیں کیونکہ پوسٹل بیلٹ ریٹرننگ افسران کے پاس پہنچ چکے ہیں اور اب یہ ووٹر اور ریٹرننگ افسر کا معاملہ ہے۔۔۔ اب جس دن ووٹ ڈالے جائیں گے اس روز پتہ چلے گا۔‘
جب ان سے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پوسٹل بیلٹ پیپرز کی تعداد کا الیکشن کمیشن کو علم نہ ہو تو انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت کراچی میں ہیں اور اسلام آباد پہنچنے کے بعد ریکارڈ دیکھ کر اگر ضروری ہوا تو معلومات دیں گے۔ ادھر حزب مخالف کی ایک اور بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک رہنما شاہ محمود قریشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں محکمہ تعلیم سمیت اکثر سرکاری محکموں کے سینئر افسران اپنے ماتحت افسران کو پوسٹل ووٹ کے لیے دباؤ ڈال رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب بھر میں محکمہ تعلیم کے ضلعی افسران نے اپنے ماتحتوں کو خط لکھا ہے کہ وہ ملازمین کو ہدایت کریں کہ شناختی کارڈ لے کر فلاں تاریخ کو فلاں افسر کے پاس حاضر ہوں۔ شاہ محمود قریشی نے دعویٰٰ کیا کہ انہوں نے سرکاری افسروں کی چٹھیوں کی تفصیل پنجاب کے صوبائی الیکشن کمشنر کو ثبوت کے طور پر پیش بھی کی لیکن تاحال کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اسی طرح ان کے بقول جیل حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قیدیوں کے ووٹ (ق) لیگ کو دلوائیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نے بتایا کہ ان کے حلقے میں جہانیاں کی مارکیٹ کمیٹی کو کہا گیا کہ وہ (ق) لیگ کے لیے مالی امداد کا اہتمام کریں اور جب انہوں نے ایسا نہیں کیا تو انہیں ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے حلقے میں ضلعی رابطہ افسران کے حامیوں کو پرویز الہیٰ کی حمایت پر مجبور کر رہا ہے۔ |
اسی بارے میں پاکستان: ’منصفانہ الیکشن کے آثار کم‘17 January, 2008 | پاکستان انتخابات ملتوی کرائیں گے: کرد 02 February, 2008 | پاکستان ’قبل از الیکشن عمل غیر منصفانہ‘10 January, 2008 | پاکستان ایمرجنسی کا خاتمہ نہیں ہوا: نواز01 February, 2008 | پاکستان انتخابات میں فوج، فیصلہ جلد01 February, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||