برجیش اپادھیائے بی بی سی نیوز، واشنگٹن |  |
 | | | سب کمیٹی کو دیئے گئے بیانات کانگریس کے ریکارڈ میں رہتے ہیں |
امریکی ایوانِ نمائندگان کی وزارت خارجہ کی سب کمیٹی کے سامنے پیش ہونے والے جنوبی ایشیائی امور کے ماہرین نے کہا ہے کہ اس بات کے آثار کم ہیں کہ پاکستان میں انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہونگے۔ امورِ خارجہ کی سب کمیٹی کے سامنے تھنک ٹینک اداروں کارنیگی انڈوومنٹ، ہیریٹج فاؤنڈیشن اور رین کارپوریشن سے تعلق رکھنے والے ماہرین جنوبی ایشیا ایشلے ٹیلس، کرسٹن فیئر اور لزا کرٹس نے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔ سب کمیٹی کو دیئے گئے یہ بیانات امریکن کانگریس کے ریکارڈ میں درج ہوتے ہیں اور پالیسی سازی اور مستقبل کے اہداف مقرر کرنے میں اہم کردار کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ صدر مشرف ایک ایسا وزیراعظم چاہیں گے جو ان کی طرف سے آئین اور قوانین میں کیے گئے ردوبدل پر انگلی نہ اٹھائے، لیکن دوسری طرف اگر انتخابات کے نتائج پر عوام کو اعتبار نہ آیا تو یہ پاکستان کے استحکام اور امریکہ دونوں کے لیے ایک بری خبر ہوگی۔  | فوجی تاج کے ہیرے  ایٹمی اثاثوں کی سلامتی کو مشرف سے جوڑنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے، یہ اثاثے پاکستان فوج فوج کے تاج میں ہیروں کی سی حیثیت رکھتے ہیں  امریکی ماہرین |
ماہرین کا خیال تھا کہ پاکستان میں عدم استحکام کی صورت میں فوج کی طاقت دہشت گردی کے خلاف استعمال ہونے کی بجائے ملک میں امن و امان قائم کرنے پر صرف ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے صدر مشرف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان اختلافات بھی پیدا ہو سکتے ہیں، اور اگر حالات بہت زیادہ بگڑتے ہیں تو فوج صدر مشرف کو کرسی صدارت سے ہٹانے کا بھی سوچ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو ابھی صدر مشرف کا ساتھ چھوڑنے یا امداد بند کرنے کا فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اس کی بجائے اس (امریکہ) کی پوری کوشش ہونی چاہیے کہ پاکستان میں منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہو۔ پاکستان کو ’وار ان ٹیرر‘ کے حوالے سے دی جانے والی امریکی امداد پر اعتراض کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ یہ طریقہ ختم ہونا چاہیے کہ پاکستان بل بھیجے اور امریکہ چیک جاری کر دے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنائے کہ یہ امداد ’دہشتگردی‘ کے خلاف ہی استعمال ہو رہی ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں فاٹا کی بہتری کے لیے مجوزہ امریکی امداد پر انہوں نے کہا کہ ابھی یہ معلوم نہیں کہ وہاں کونسے منصوبے شروع کیے جائیں گے  | | | فوج صدر مشرف کو کرسی صدارت سے ہٹانے کا بھی سوچ سکتی ہیں | کیونکہ نہ تو واشنگٹن اور نہ ہی اسلام آْباد نے اس حوالے سے مطلوبہ سیاسی ماحول بنانے کی کوئی تیاری کی ہے۔ پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں پر پائے جانے والے خدشات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا انہیں کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے کیونکہ وہ (پاکستان) فوج کے اعلیٰ یونٹ کی زیر نگرانی ہیں۔ ’ان کی سلامتی کو مشرف سے جوڑنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے، یہ اثاثے پاکستان فوج فوج کے تاج میں ہیروں کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔‘ |