BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 January, 2008, 12:18 GMT 17:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستانی ایٹمی اسلحہ کی نگرانی ضروری‘
نامزدگی کی دوڑ میں تیزی آرہی ہے
امریکی صدر کے عہدے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی ممکنہ امیدوار ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں وہ چاہیں گی کہ پاکستان کے جوہری اسلحے کے تحفظ کی نگرانی امریکی اور برطانوی ماہرین کی ایک مشترکہ ٹیم کے سپرد کر دی جائے۔

پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے اپنی انتخابی مہم کے تحت ایک مباحثہ میں حصہ لیتے ہوئے ہیلری کلنٹن نے کہا کہ ’ جہاں تک ہمیں ابھی معلوم ہے، (پاکستان کی) جوہری ٹیکنالوجی فی الحال محفوظ ہے لیکن پاکستان کے اندر جاری شورش کے پیش نظر اس کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی‘۔

ہیلری کلنٹن نے کہا کہ ’ صدر منتخب ہونے کی صورت میں میری کوشش ہوگی کہ صدر مشرف جوہری اسلحے کی حفاظتی عمل میں امریکہ اور ممکنہ طور پر برطانیہ کو بھی شریک کریں تاکہ حالات بگڑنے کی صورت میں جوہری اسلحے کو غلط ہاتھوں میں پڑنے سے روکا جاسکے‘۔

یہ بحث سنیچر کی رات دیر گئے امریکی ریاست نیو ہیمپشر میں ہوئی اور اس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ کے چاروں امیدوار -- ہلیری کلنٹن، سینیٹر باراک اوباما، گورنر بل رچرڈسن اور سابق سینیٹر جان ایڈورڈز-- شامل تھے۔

امریکہ میں اس نوعیت کےبیانات کافی پابندی سے سامنے آ رہے ہیں

چاروں امیدواروں نے صدر بش کی پاکستان پالیسی کی سخت مذمت کی اور کہا کہ اگر انہیں کوئی خطرہ نظر آیا یا یہ معلوم ہوا کہ اسامہ بن لادن کہاں چھپے ہوئے ہیں تو وہ پاکستان میں یک طرفہ طور پر فوجی حملے کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔

جان ایڈورڈز نے کہا کہ صدر مشرف ایک غیر مستحکم لیڈر ہیں اور پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں تشدد پر آمادہ قدامت پسند عناصر سرگرم ہیں جو، اگر حالات سازگار ہوئے، تو حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے سکتے ہیں۔

’ اگر ایسا ہوتا ہے، تو جوہری اسلحے کا کنٹرول بھی ان کے ہاتھوں میں ہوگا۔ یا تو وہ خود اسے استعمال کرسکتے ہیں یا امریکہ کے خلاف استعمال کرنے کے لیے کسی دہشت گرد تنظیم کے حوالے کر سکتے ہیں۔‘

صدر مشرف نے آئی اے ای اے کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی ہے

نامزدگی کی دوڑ میں فی الحال باراک اوباما کو سبقت حاصل ہے جنہوں نے ریاست آئیووا کی مہم میں جان ایڈورڈز اور ہیلری کلنٹن کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ اوباما نے اپنا یہ موقف دہرایا کہ اگر پاکستان میں القاعدہ کی موجودگی کی ٹھوس انٹیلیجنس ملتی ہے، تو چاہے اسلام آباد مخالفت ہی کیوں نہ کرے وہ (فوجی) کارروائی کریں گے۔

’ میں پہلے بھی یہ کہہ چکا ہوں کہ ہم پاکستان میں جمہوریت کو فروغ دینے کی کوشش کریں گے اور ان پر زور ڈالیں گے کہ وہ القاعدہ کے خلاف اور کارروائی کریں۔۔۔ لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے یا کرنا نہیں چاہتے، اور ہمارے پاس ٹھوس انٹیلیجنس ہوئی تو میں فوجی حملے کروں گا‘۔

بل رچرڈسن نے کہا کہ ’ پاکستان ایک ممکنہ ناکام ریاست ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، ہم نے مشرف کو گیارہ ارب ڈالر دیے ہیں لیکن انہوں نے پاکستان کے اندر بھی القاعدہ کے خلاف کارروائی نہیں کی ہے۔۔۔ ایسے میں میں صدر مشرف سے کہوں گا کہ وہ مستعفی ہو جائیں‘۔

جوہری نظام غیر یقینی حالات
پاکستانی جوہری اثاثوں پر امریکی تشویش
جوہری پاکستان
مشرف کا بیان اور جوہری ذخائر پر عالمی توجہ
جوہری پلانٹ’ تیسرا ری ایکٹر‘
پاکستان جوہری پروگرام پھیلا رہا ہے: تھنک ٹینک
پاکستان اور طالبان
امریکی کانگریس میں پاکستان پر نیا بِل
اسی بارے میں
جوہری اسلحہ، کتنا محفوظ؟
02 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد