’جوہری معاہدے پر نظرثانی کرینگے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حزب اختلاف کے رہنما لعل کرشن اڈوانی نے کہا ہے کہ ہند-امریکہ جوہری معاہدے کے کئی ’قابل اعتراض‘ نکات ملکی مفاد میں نہیں ہیں۔ بدھ کے روز لعل کرشن اڈوانی نے جوہری معاہدے پر ایوانِ زیریں یعنی لوک سبھا میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’جوہری معاہدے میں کئی ایسی قابل اعتراض باتیں ہيں جو ملک کے مفادات کے خلاف ہيں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کا محاذ اقتدار میں آئے گا تو قابل اعتراض پہلوؤں کو ہٹانے کے لیے امریکہ سے بات چيت کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ ہندوستان کو جوہری تجربہ کرنے سے روکتا ہے اور ہندوستان کی حیثیت ایک جونئیر پارٹنر کی سی ہو جاتی ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ اگر اندرا گاندھی اور اٹل بہاری واجپئی ملک کے وزير اعظم ہوتے تو اس طرح کے معاہدے پر کبھی راضی نہيں ہوتے۔ لعل کرشن اڈوانی کے بیان پر اپنے ردعمل میں وزيراعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ ہند-امریکہ جوہری معاہدہ ہندوستان کو جوہری تجربہ کرنے سے نہيں روکتا ہے۔ منموہن سنگھ کے بیان کا مقصد حزب اختلاف کے خدشات کو دور کرنا تھا۔ منموہن سنگھ نے لعل کرشن اڈوانی کی تقریر کے دوران کہا: ’مستقبل میں اگر جوہری تجربہ کرنے کی ضرورت پڑی توہندوستان ایسا کر سکتا ہے کیوں کہ معاہدے میں ایسی کوئی شرط موجود نہیں ہے جو ہمیں جوہری تجربہ کرنے سے روکتی ہو۔‘ ہند-امریکہ جوہری معاہدے پر حکومت کو باہر سے حمایت کرنے والی کمیونسٹ جماعتوں سے بھی مخالفت کا سامنا ہے۔ کمیونسٹ جماعتوں کا کہنا ہے کہ معاہدے سے ملک کی خارجہ پالیسی پر بھی امریکہ اثر انداز ہوگا۔ |
اسی بارے میں جوہری معاہدہ، بایاں محاذ کا نرم رویہ 16 November, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ: کمیٹی کا اجلاس11 September, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ پر اختلاف گہرے18 August, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے کیلیئے انڈین اپیل01 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||