جوہری معاہدہ، امریکہ کی ضرورت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں جوہری سائنس دانوں، انجینئروں اور تکنیکی ماہرین کی تنظیم انڈین نیوکلیئر سوسائٹی کے سربراہ ڈاکٹر پی رودریگز کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدہ کے لیے امریکہ، ہندوستان سے زيادہ خواہش مند ہے۔ حیدرآباد میں سوسائٹی کی اٹھارہویں کانفرنس کی افتتاحی تقریر میں آئی این ایس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ امریکہ نے گزشتہ تین دہائیوں میں ایک بھی جوہری ری ایکٹر تعمیر نہيں کیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ امریکہ جوہری تونائی کے شعبے میں زبردست انسانی وسائل کی کمی سے دوچار ہونے والا ہے۔’ امریکہ کو جوہری معاہدہ کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ہندوستان سے جوہری ماہرین حاصل کرسکتا ہے اور اسی لیے امریکہ اس قدر معاہدے کا خواہاں ہے اور اس کا اظہار امریکی نائب وزیر خارجہ نکولس برنز نے امریکہ میں دانشوروں کے ایک خطاب میں بھی کیا تھا‘۔ ان کا کہنا تھا’ اس وقت امریکہ کے پاس صرف ایک سوگیگا واٹ کی صلاحیت والا ری ایکٹر ہی موجود ہے اور سنہ دو ہزار پچاس میں وہ چار سو گیگا واٹ کی صلاحیت والا ری ایکٹر نصب کرنے کی توقع کرتا ہے، آج امریکہ میں جوہری شعبے میں چودہ ہزار انجینئر، چالیس ہزار تکنیکی ماہرین ہیں اور سنہ دو ہزار پچاس میں اسے پچاس ہزار انجینئروں اور ڈیڑھ لاکھ تکنیکی ماہرین کی ضروت پڑے گی جبکہ امریکہ اس وقت ہر سال صرف چار سو جوہری انجینئر ہی تیار کر پا رہا ہے اور آج بھی امریکہ میں ضرورت کے لحاظ سے ماہرین کی کمی ہے‘۔ ڈاکٹر رودریگز نے حکومت کی اس دلیل کو خارج کر دیا کہ معاہدے سے ہندوستان کو امریکہ کی جدید جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی ممکن ہو سکے گی کیونکہ آئندہ پندرہ برسوں تک امریکہ کے پاس فروخت کرنے کے لیے نیوکلیئر ری ایکٹر موجود نہيں ہوں گے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ’ امکانات ہیں کہ ہلکے نیوکلیئر واٹر ری ایکٹرز روس اور فرانس سے حاصل کیے جاسکتے ہيں نہ کہ دوسرے ممالک سے‘۔ ڈاکٹر رودریگز کا کہنا ہے کہ حکومت کو معاہدے سے متعلق عوام اور ارکان پارلیمان کو صحیح معلومات فراہم کرنی چاہیے۔ تاہم ان کہنا تھا کہ ہم معاہدے کے مخالف نہيں ہیں لیکن معاہدے کے لیے پیش کیے گئے جواز سے اتفاق نہيں کرتے کیونکہ حکومت کی جانب سے توانائی کے تحفظ، ترقی اور بہتر ٹیکنالوجی کی فراہمی جیسے دلائل صحیح نہيں ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاہدے کا اچھا پہلو یہ ہے اس معاہدے کے بعد ہندوستان قدرتی یورنیم درآمد کر سکتا ہے‘۔ جوہری معاہدے کے متعلق ہندوستان کی پارلیمان میں ستائیس سے انتیس نومبر کے درمیان بحث ہونی ہے اور اس سے قبل ایک جوہری سائنس داں کا بیان اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ اس معاہدے کی مخالفت حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ حکمراں جماعت کی حمایت کرنے والا بایاں محاذ بھی کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں جوہری معاہدے پر اہم مذاکرات21 November, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، بایاں محاذ کا نرم رویہ 16 November, 2007 | انڈیا روس نے جوہری معاہدے پر دستخط کیوں نہیں کیے؟14 November, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پرمشکلات: منموہن16 October, 2007 | انڈیا ’اپنے مفادات کا خیال رکھیں گے‘17 November, 2006 | انڈیا جوہری معاہدہ پینل سے منظور28 June, 2006 | انڈیا ہندوستان کی جوہری تنہائی کاخاتمہ02 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||