جوہری معاہدہ، بایاں محاذ کا نرم رویہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حکومت کی اتحادی بائیں بازو کی جماعتوں نے جوہری معاہدے کے حوالے سے اقوام متحد کے نگراں ایٹمی ادرے آئی اے ای اے سے بات چیت کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ حکمراں یو پی اے محاذ اور بایاں محاذ کے درمیان اختلافات کے سبب جوہری معاہدے پر آگے کی بات چیت روک دی گئی تھی۔ ہند امریکہ جوہری معاہدے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے حکمراں اتحاد یونائٹیڈ پرگرویسو ایلائنس اور بائیں بازو کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت کے بات یہ فیصلہ کیا گيا ہے۔ میٹنگ میں اس امر پر بات چيت ہوئی کہ چونکہ آئی اے ای اے سے مذاکرات میں بھی ہائیڈ ایکٹ کے پہلوؤں کا خیال رکھنا ضروری ہوگا اس لیے پہلے اس سے بات کی جائے تاکہ تصویر مزید واضح ہوسکے۔ حکومت اب اقوام متحدہ کے نگراں ایٹمی ادارے آئی اے ای اے سے بات چيت کریگی اور آئندہ کی میٹنگ میں بات چيت کے نتائج پر تبادلہ خیال کیا جائےگا۔ حکمراں اتحاد اور بائیں محاذ کی میٹنگ کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے پر عمل در آمد سے پہلے آئی اے ای اے سے بات چيت کا جائزہ لیا جائےگا اور تبھی اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائےگا۔ ہند امریکہ جوہری معاہدے کے مسئلے پر حکمراں اتحاد میں شدید اختلافات ہیں۔ یو پی اے میں شامل بائیں بازو کے محاذ نے کہا تھا کہ اگر امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے پر عملدرآمد ہوا تو وہ حکومت سے علحیدگی اختیار کر لےگا۔ لیکن تازہ بیانات سے لگتا ہے کہ بایاں محاذ کے رخ میں نرمی آئی ہے اسی لیے اس نے اس بارے میں بات چيت آگے بڑھانے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ اس مسئلے پر پارلیمنٹ اجلاس میں بحث بھی ہونے والی ہے۔ | اسی بارے میں جوہری معاہدے پر مذاکرات جاری18 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پرمشکلات: منموہن16 October, 2007 | انڈیا روس نے جوہری معاہدے پر دستخط کیوں نہیں کیے؟14 November, 2007 | انڈیا ’وسط مدتی الیکشن نہیں چاہتے‘ 31 October, 2007 | انڈیا بھارت معاہدے پر عمل کرے: پالسن29 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پر عملدرآمد ملتوی 22 October, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||