جوہری معاہدے پر عملدرآمد ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہند امریکہ جوہری معاہدے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے حکمراں اتحاد یونائٹیڈ پرگرویسو ایلائنس اور بائیں بازو کے محاذ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت کا اگلا دور نومبر میں ہوگا۔ اس بات کا فیصلہ پیر کو حکمراں اتحاد اور محاذ کے درمیان دلی میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کی۔ اجلاس کے بعد مسٹر مکھرجی نے صحافیوں کے سامنے ایک بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ یو پی اے اور بائيں بازو کے درمیان اگلا اجلاس سولہ نومبر کو ہوگا۔ ’آج کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہند امریکہ جوہری معاہدے پر عمل درآمد تب تک نہیں کیا جایا گا۔‘ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اجلاس میں ہند امریکہ جوہری معاہدے سے متعلق ہائڈ ایکٹ میں موجود مختلف پہلؤوں پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیان سے ایسا لگتا ہے کہ بائيں بازو کی جماعتوں کے اس مطالبے کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ فی الوقت اس معاہدے پر عملدرآمد نہ کیا جائے۔
دوسری جانب ذرائع ابلاغ میں اس قسم کی خبریں آ رہی ہیں کہ اس اجلاس سے قبل ہونے والی یو پی اے کی میٹنگ میں وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ہند امریکہ جوہری معاہدے پر پیدا ہوئی موجودہ صورت حال پر افسوس ظاہر کیا ہے۔ گزشتہ پیر کو وزیر اعظم منموہن سنگھ نے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں امریکہ اور ہندوستان کے درمیان جوہری معاہدے کے نفاذ میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم وزیر اعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ جوہری معاہدہ ابھی ناکام نہیں ہوا ہے اور اس مسئلے پر وہ اپنی اتحادی جماعتو ں کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہند امریکہ جوہری معاہدے کے مسئلے پر حکمراں اتحاد میں شدید اختلافات ہیں۔ یو پی اے میں شامل بائیں بازو کے محاذ کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے پر عملدرآمد ہوا تو وہ حکومت سے علحیدگی اختیار کر لے گا۔ پیر کو ہونے والے اجلاس سے قبل کمیونسٹ پارٹی آف انڈيا کے رہنما اے وی وردھن کا کہنا تھا ’میرے خیال میں معاہدے کے متعلق تنازعہ اس وقت ختم ہوگا جب یہ واضح کر دیا جائے کہ حکومت اس معاہدے کومعطل کر رہی یا سرِ دست سرد خانے میں رکھ رہی ہے۔‘
بائیں بازو کے محاذ کا کہنا ہے کہ موجودہ شکل میں جوہری معاہدے کی منظوری سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی امریکہ کے دباؤ میں آجائے گی۔ اس لیے ان کا مطالبہ ہے کہ جوہری معاہدے کے نفاذ کے سلسلے میں پیش قدمی فوراً روک دی جائے۔ محاذ سے اختلاف دور کرنے کے لیے گزشتہ مہینے وزیرخارجہ پرنب مکھرجی کی زير قیادت پندرہ رکنی کمیٹی بنائی گئی تھی۔ اس سے قبل کمیٹی کے کئی اجلاس ہو چکے ہیں جو نتیجہ خیز نہیں رہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ معاہدے پر عملدرآمد میں تعطل آنے سے بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی ساکھ کو دھچکا لگے گا۔ خیال رہے کہ اگر ہندوستان اور امریکہ کے درمیان جوہری شعبے میں یہ تاریخی معاہدہ پائے تکمیل تک پہنچتا ہے تو اس نتیجہ میں ہندوستان کو امریکہ کی جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ |
اسی بارے میں جوہری معاہدے پر مذاکرات جاری18 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پرمشکلات: منموہن16 October, 2007 | انڈیا سونیا کے بیان سے بایاں محاذ برہم08 October, 2007 | انڈیا ’معاہدے کے مخالف ترقی کے دشمن‘07 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، سیاسی تعطل برقرار19 September, 2007 | انڈیا پیچھے نہیں رہے سکتے: منموہن31 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||