’معاہدے کے مخالف ترقی کے دشمن‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حکمراں اتحاد کی سربراہ سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ ہند امریکہ جوہری معاہدے کی مخالفت کرنے والے ملک کی ترقی کے دشمن ہیں۔ انہوں نے یہ بات ریاست ہریانہ کے جھجھر علاقے میں ایک عوامی اجلاس کے دوران کہی۔ سونیا گاندھی کا کہنا تھا کہ’جو لوگ جوہری معاہدے کی مخالفت کررہے ہیں، وہ نہ صرف کانگریس بلکہ ملک کے امن اور ترقی کے دشمن ہیں‘۔ ہند امریکہ جوہری معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے توانائی کی پیداوار میں اضافہ کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’ہمیں اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ توانائی کی پیداوار بھی بڑھانی ہے اور اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا گیا ہے‘۔ تاہم انہوں نے یہ بات کہتے ہوئے واضح طور پر کسی سیاسی پارٹی یا گروپ کا نام نہیں لیا۔ واضح رہے کہ ’بائیں محاذ‘ نے ہند امریکہ جوہری معاہدے کے ون ٹو تھری اگریمنٹ کے سامنے آنے کے بعد اعتراض کیا تھا اور ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت امریکہ کے ساتھ کسی بھی حتمی مفاہمت پر پہنچنے سے پہلے ایک بار پھر معاہدے پر غور کرے۔ بائیں بازو کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ معاہدے میں بعض ایسی شرائط شامل ہیں جس سے ملک کی خارجہ پالیسی میں امریکہ کی دخل اندازی صاف نظر آتی ہے اور یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ بائیں محاذ کی شدید مخالفت کے بعد حکومت نے معاہدے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ حکومت اور بائیں محاذ کے درمیان جاری ہند امریکہ جوہری معاہدے سے متعلق مذاکرات ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ |
اسی بارے میں جوہری معاہدہ، سیاسی تعطل برقرار19 September, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ: کمیٹی کا اجلاس11 September, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، کمیٹی کی تشکیل30 August, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ پر اختلاف گہرے18 August, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، بائیں محاذ کا اجلاس 17 August, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ اور سیاسی کشمکش 11 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||