BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 August, 2007, 12:34 GMT 17:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری معاہدہ، بائیں محاذ کا اجلاس

ہنگامہ آرائی
اجلاس کی کارروائی ہنگامہ آرائی کے سبب ملتوی کر دی گئی
مریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنی حکمت عملی طے کرنے کے لیے ہندوستان میں حکومت کی اتحادی بائیں بازو کی جماعتوں کا اجلاس جاری ہے۔

یہ جوہری معاہدہ کانگریس اور بائیں محاذ کے درمیان کشیدگی کا سبب بن گیا ہے اور بائیں محاذ نے معاہدے کی بعض شراائط پر اعتراض کرتے ہوئے حکومت سے اس پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس معاہدے کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ مخالفت کے باوجود حکومت اس سے پیچھے نہیں ہٹےگی۔

اس اجلاس میں یہ حکمت عملی طے کی جائے گی کہ اس پر حکومت کے ساتھ کیا رخ اختیار کیا جائے۔ اطلاعات کے مطابق اس مسئلے پر حکومت سے نمٹنے کے حوالے سے خود بائیں بازو کی جماعتوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ بعض رہنماؤں نے اس مسئلے پر سخت رویہ اپنا رکھا ہے جبکہ ایک مارکسی رہنما بمان بوس نے کہا ہے کہ پالیسی کے تحت وہ حکومت کو گرانا نہیں چاہتے ہیں۔

ادھر اسی مسئلے پر پارلینمٹ میں ایک بار پھر ہنگامہ ہوا ہے۔ اجلاس کے دوران حزب اختلاف کے رہنما لال کرشن اڈوانی نے کہا ’اس طرح کے معاہدوں کی منظوری بھی پارلیمنٹ سے ہونی چاہیے جس کے لیے ایک قانون بنانے کی ضرورت ہے، یہ بات ظاہر ہوچکی ہے کہ موجودہ شکل میں معاہدے کو ارکان کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہے‘۔

بائیں بازو کے رہنما گروداس داسگپتا نے بھی معاہدے کی مخالفت کی اور کہا ’میں امریکہ کے اس بیان کی سخت مذمت کرتا ہوں جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر ہندوستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تو یہ معاہدہ خود بخود ختم ہوجائےگا۔‘

بحث کے دوران پارلیمانی امور کے وزیر پریہ رنجن داس منشی نے سابق وزیر خارجہ جارج فرنانڈس کے ایک متنازعہ بیان پر سخت اعتراض کیا جس کے سبب ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ مسٹر منشی نے کہا ’ اگر ان کی دماغی حالت صحیح نہیں ہے تو کوئی بات نہیں لیکن اگر صحیح ہے تو حکومت ان کے بیان کی سخت مذمت کرتی ہے اور اپوزیشن رہنما کو بھی ان کے بیان کی مذمت کرنی چاہیے۔‘

سابق وزیر خارجہ جارج فرنانڈس کی طرف سے بعض اخبارات میں یہ بیان شائع ہوا ہے کہ ’وزیراعظم نے جوہری معاہدہ کر کے ملک کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور اگر یہ چین میں ہوا ہوتا تو ان کے سر میں ایک گولی مار کر معاملہ حل کر دیا جاتا۔‘

پارلیمان کے اجلاس کی کارروائی ہنگامہ آرائی کے سبب ملتوی کر دی گئی ہے اور
ہند امریکہ جوہری معاہدے پر ایوان میں مفصل بحث پیر سے شروع ہوگی۔

بھارت کا جوہری پروگرام بھارتی ایٹمی پروگرام
فوجی مقاصد کیلیے دو ری ایکٹر
نیوکلیئر پروگرامایٹمی تنہائی کاخاتمہ
امریکہ نےانڈیا کوجوہری طاقت مان لیا
دلی ڈائری
ایک لاکھ کی کتاب، گاندھی سمادھی پر کتے
وزیراعظم منموہن سنگھہند امریکہ معاہدہ
جوہری معاہدہ آخری مرحلے میں: منموہن
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد