BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 August, 2007, 17:57 GMT 22:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کمیونسٹ رہنما سے ملاقات
معاہدے کو وزیراعظم کی کابینہ نے منظوری دیدی ہے
ہند-امریکہ جوہری تعاون کے معاہدہ کو ملک کے مفاد و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینے والے مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری پرکاش کرت نے معاہدے سے پیدا ہونے والے اختلافات کو ختم کرنے کے لیے وزير اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی ہے۔

وزیر اعظم کے میڈیا کےمشیر سنجے بارو نے کہا ہے کہ منگل کی صبح وزیراعظم منموہن سنگھ ، وزیر خارجہ پرنب مکھرجی اور پرکاش کرت کے درمیان جوہری معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت ہوئي۔

مسٹر بارو کے مطابق پرکاش کرت نے وزیر اعظم کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ معاہدے سے متعلق تمام تفصیلات پارٹی کے رہنماؤں کی میٹنگ میں رکھیں گے جو ہفتے کے روز متوقع ہے۔

ان رہنماؤں کی ملاقات کے بعد سنجے باور نے ایک مختصر بیان میں بتایا کہ کرت اور وزیر اعظم نے جوہری معاہدے سے متعلق اختلافات ختم کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔

ان رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب پیر کو وزیر اعظم نےپارلیمنٹ میں زبردست ہنگامے کے درمیان جوہری تعاون کے معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ معاہدہ ملک کے مفاد میں ہے۔اس معاہدے کے سبب کسی قسم کی جوہری معاملات میں امریکہ کی دخل اندازي نہيں ہوگي اور ہندوستان جوہری دھماکہ کرنے کے لیے آزاد ہے۔‘

بائیں بازوں کی جماعتیں اس معاہدے کی مخالفت کر رہی ہيں اور وزیر اعظم کے بیان کے وقت ان کے ارکان ایوان سے واک آوٹ کر گئے تھے۔

اس درمیان حکمراں جماعت کانکریس کی صدر سونیا گاندھی نے جوہری معاہدہ کے تنازعہ پر وزیراعظم کی حمایت کی ہے۔

محترمہ گاندھی نے پارٹی کے ارکان پارلیمان کو خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں اور اختلافات پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ لیکن بحث و مباحثہ سے اختلافات دور کیے جا سکتے ہیں۔ میں وزیر اعظم کو جوہری معادہدے کے لیے مبارک باد دیتی ہوں۔‘

حکومت کو اتحادی بائیں بازوں کی جماعتوں کے ساتھ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے بھی مخالفت کا سامنا ہے۔ بی جے پی اس معاملے پر پارلیمان کے ضابطہ 184 کے تحت ایوان میں بحث کرنا چاہتی ہے تاکہ بحث کے بعد اس پر ووٹنگ ہوسکے۔

جوہری معاہدے پر بائیں بازوں اور بی جے پی کے شدید مخالفت کے باوجود وزیراعظم پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہيں کہ اس معاہدے کو کابینہ منظوری دے دی چکی ہے اور اس کو مسترد کرنا ممکن نہيں۔

وزیراعظم منموہن سنگھہند امریکہ معاہدہ
جوہری معاہدہ آخری مرحلے میں: منموہن
جوہری پروگرامایران ایٹمی تنازعہ
بھارت میں رائے جدا جدا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد