’امریکہ سے جوہری معاہدہ مسترد‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں حکمران یو پی اے کی اتحادی، بائیں بازوں کی جماعتوں نے بھارت کے امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کو مسترد کردیا ہے۔ سی پی ایم کے جنرل سیکریٹری پرکاش کارات کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں ایسا معاہدہ نامنظور ہوگا جس سے اس کی خارجہ پالیسی پر اثر پڑتا ہو۔ سی پی ایم کے جنرل سیکریٹری پرکاش کارات نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ہندوستان کو امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ صرف ایک جوہری معاہدے کے طور پر نہیں بلکہ امریکہ اور ہندوستان کے سماجی، اقتصادی اور سیاسی رشتوں سے جوڑ کر دیکھنا چاہیۓ۔ مسٹر کارات نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدے میں مستقل جوہری ایندھن فراہمی کی جو بات کہی گئی ہے وہ مبہم ہے اور یہ امریکہ کی مرضی پر منحصر کرتا ہے کہ ’وہ ایندھن کی فراہمی کب بند کردے۔ اگر کسی وجہ سے معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے تو امریکہ ایندھن کی فراہمی بھی بند کرسکتاہے۔‘ ان کا یہ بھی کہنا کہ یہ صرف ایک جوہری معاہدہ نہیں ہے ’بلکہ اس کے ذریعے ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کررہا ہے۔‘ انہوں نے امریکہ کے اس حالیہ بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں ہندوستان کو ایران سے اپنے رشتے کم کرنے کو کہا گیا تھا۔ چار جماعتوں پر مشتمل بائیں محاذ نے کہا کہ اس معاہدے میں بعض خامیاں اور اس کے نفاذ کے لئے ہندوستان کوئی قدم نہ اٹھائے۔ بائیں بازو کے محاذ نے یہ صاف کردیا ہے کہ اس معاہدے پر وہ پارلیمنٹ میں بحث اور ووٹنگ کی صورت میں اس کی مخالفت کرے گا۔ کمیونسٹ جماعتوں کا کہنا ہے کہ پارلیمان میں وزیراعظم منموہن سنگھ نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ معاہدے میں ہندوستان کے مفادات کا خیال رکھا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔ کمیونسٹ جماعتوں کا معاہدے کو مسترد کردینا اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ جوہری معاہدے پر ایک ایسے ضابطے کے تحت قرارداد لائے گی جس کے بعد اس معاملے پر ووٹنگ کرنا پڑے گی۔ بی جے پی اس معاہدے کے بعض پہلوں پر پہلے ہی وضاحت طلب کرچکی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے جوہری پروگرام کی آزادی ختم ہوجائے گي اور وہ امریکہ کے غلام ہوجائے گی۔ | اسی بارے میں ’اپنے مفادات کا خیال رکھیں گے‘17 November, 2006 | انڈیا ’بل کی منظوری، ملک کی بے عزتی‘10 December, 2006 | انڈیا ’خارجہ پالیسی کسی دباؤ میں نہیں‘12 December, 2006 | انڈیا جوہری معاہدہ آخری مرحلے میں: منموہن18 July, 2007 | انڈیا بھارت اور امریکہ کا جوہری معاہدہ27 July, 2007 | انڈیا انڈیا امریکہ جوہری اشتراک کی تفصیل03 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||