انڈیا امریکہ جوہری اشتراک کی تفصیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور امریکہ نے غیر فوجی جوہری ٹیکنالوجی کے اشتراک کے حوالے سے تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ یہ تفصیلات اس معاہدے کا حصہ ہیں جس پر دونوں ممالک نے دو سال قبل اتفاق کیا تھا اور ان میں ایندھن کے ذخائر اور افزودگی کے حقوق کی وضاحت کی گئی ہے۔ تفصیلی تحریر میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ بھارت کو جوہری ایندھن کا ذخیرہ کرنے میں اس حد تک مدد کرے گا کہ بھارت کے جوہری ری ایکٹروں کی قابلِ استعمال معیاد تک جوہری ایندھن کی کمی نہ ہونے پائے‘۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جوہری ایندھن کی ذخیرہ اندوزی اور اس کی افزودگی کے حقوق جوہری ہتھیار بنانے کے طرف دو اہم اقدام ہیں تاہم معاہدے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ یورینیم کی افزودگی اسی ری ایکٹر میں ہو گی جو اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کی زیرِ نگرانی ہو گا تاکہ اس یورینیم کو بم بنانے کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔ جمعے کو جاری ہونے والی تفصیلات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر بھارت نے مستقبل میں ایٹمی ہتھیاروں کا تجربہ کیا اور اس صورت میں امریکہ کو ایندھن کی فراہمی روکنا پڑی تو امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ وہ کسی تیسرے ملک سے جوہری ایندھن بھارت کے ری ایکٹروں تک پہنچائے۔ گزشتہ ہفتے دونوں ملکوں نے اعلان کیا تھا کہ ان کے درمیان تکنیکی اشتراک پر معاہدہ مکمل ہو چکا ہے اور اسمبلیوں کی جانب سے منظوری کے بعد معاہدے کا باضابطہ طور پر تفصیلی اعلان کیا جائے گا۔ اس معاہدے کی تکمیل سے پہلے بھارت کو اقوامِ متحدہ کے جوہری امور کے نگران ادارے آئی اے ای اے اور جوہری مواد فراہم کرنے والی اقوام کے گروہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے ساتھ بھی معاہدے کرنا ہوں گے۔ | اسی بارے میں بھارت اور امریکہ کا جوہری معاہدہ27 July, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے کی منظوری 25 July, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ آخری مرحلے میں: منموہن18 July, 2007 | انڈیا ہتھیاروں کی دوڑ نہیں چاہتے:منموہن07 July, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پر مذاکرات ناکام 02 June, 2007 | انڈیا ’پاک-انڈیا تعلقات متاثر نہیں ہوں گے‘20 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||