BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 June, 2007, 23:56 GMT 04:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری معاہدے پر مذاکرات ناکام
نکولس برنز اور شیو شنکر مینن
دونوں ممالک نے مستقبل میں بات چیت کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی
بھارت کے دارالحکومت دلی میں ہند۔امریکہ جوہری توانائی معاہدے کے حوالے سے تین روزہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکی ہے۔

دونوں ممالک اس بات چیت کے دوران معاہدے کے حوالے سے اختلافات دور کرنے میں ناکام رہے۔

اس بات چیت میں امریکہ کی نمائندگی نائب وزیرِ خارجہ نکولس برنز نے کی جبکہ بھارت کی جانب سے سیکرٹری خارجہ شِو شنکر مینن ان مذاکرات میں اپنے وفد کی قیادت کی۔

بات چیت کے بعد بھارتی سیکرٹری خارجہ شِو شنکر مینن کا کہنا تھا’ اب بھی ایسے معاملات ہیں جہاں اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم اس بات چیت کے نتیجے میں ہم ایک دوسرے کی پوزیشن اچھی طرح سمجھ چکے ہیں ۔ہم اب جانتے ہیں کہ کیا کچھ ممکن ہے اور کچھ معاملات میں حل کی راہ بھی دکھائی دی ہے لیکن ہمیں اس کے لیے بات چیت اور غور و فکر کرنا ہوگا‘۔

ادھر بھارت میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’بات چیت کارآمد رہی اور بات کچھ آگے بڑھی ہے‘۔

دونوں ممالک کے درمیان اس حوالے سے مستقبل میں بات چیت کی کوئی حتمی تاریخ بھی نہیں دی گئی اور اس حوالے سے بھارتی سیکرٹری خارجہ نے کہا’ ہم پر امید ہیں کہ معاہدہ ہو جائے گا۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ میں نے کبھی کوئی تاریخ طے کرنے یا ڈیڈ لائن دینے کی کوشش نہیں کی کیونکہ میرے نزدیک یہ کسی ایسے معاملے پر بات چیت کا صحیح طریقہ نہیں جو بہت پیچیدہ ہے‘۔

 اب بھی ایسے معاملات ہیں جہاں اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم اس بات چیت کے نتیجے میں ہم ایک دوسرے کی پوزیشن اچھی طرح سمجھ چکے ہیں ۔ہم اب جانتے ہیں کہ کیا کچھ ممکن ہے اور کچھ معاملات میں حل کی راہ بھی دکھائی دی ہے لیکن ہمیں اس کے لیے بات چیت اور غور و فکر کرنا ہوگا۔
شِو شنکر مینن

گزشتہ دسمبر میں امریکہ نے بھارت سے جوہری تعاون پر تیس سال قبل لگائی گئی پابندیاں اٹھا لی تھیں تاہم دونوں جانب کے حکام وہ شرائط طے کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کے تحت امریکہ نے ایٹمی بجلی گھروں کے لیے بھارت کو جوہری ایندھن فراہم کرنا تھا۔

دلی میں بی بی سی کے نمائندے سنجے مجمدار کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک میں بنیادی اختلاف جوہری ایندھن کی ری پروسیسنگ اور مزید جوہری دھماکوں کے حوالے سے ہے۔ امریکہ ان دونوں معاملات کا مخالف ہے جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ یہ اس کی خودمختاری کا معاملہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد