’امریکی خط، دباؤ ناقابلِ برداشت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حکومت کی اتحادی اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے بعض امریکی قانون سازوں کی طرف سے ہندوستان کو ایران کے ساتھ اپنے رشتوں پر نظرِ ثانی کرنے کے مشورے پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ امریکی کانگریس کے بعض اہم ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن ارکان نے وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کے نام ایک خط میں لکھا ہے کہ اگر’بھارت امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتا ہے تو اسے ایران کے ساتھ اپنے رشتوں پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے‘۔ جمعہ کو پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوتے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی اور بائیں بازو کے رہنماؤں نے بقول ان کے امریکہ کے اس دباؤ کے بارے میں وزیراعظم سے وضاحت طلب کی۔ پارلیمانی امور کے وزیر پریہ رنجن داس منشی نے کہا کہ وہ وزیراعظم کو پارلیمان کے ارکان کے احساسات سے آگاہ کریں گے۔’ مجھے یقین ہے کہ وزیراعظم اس پر بیان دیں گے‘۔ سابق وزیر خارجہ اور بی جے پی کے سینیئر رہنما یشونت سنہا نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہد ہ کے معاملے میں حکومت نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں روز بروز خطرناک قسم کے پہلو سامنے آرہے ہیں۔’سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ کہیں یہ حکومت امریکی دباؤ میں ان باتوں کو نہ تسلیم کرلے جو ’ہائڈ ایکٹ‘ میں ہیں، ہمیں امریکی قانون سازوں کو سخت قسم کا پیغام بھیجنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کا دباؤ کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے‘۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی رہنما برندا کرات کا کہنا تھا ’ ہم اس دھمکی کی سخت مذمت کرتے ہیں، ہمارے نزدیک یہ دھمکی ملک کے اقتدار اعلی کے لیے خطرہ ہے، امریکی سفیر کر فورا طلب کرکے یہ بتانا چاہیے کہ ملک کو فروخت نہیں کیا جا سکتا اور ایسی حرکت پارلیمنٹ کبھی برداشت نہیں کرےگي‘۔ ارکان کے شدید رد عمل کو دیکھتے ہوئے پریہ رنجن داس منشی نے کہا کہ ایسی کسی بات سے سمجھوتہ ہرگز نہیں کیا جائے گا جس سے ملک کے اقتدار اعلی پر اثر پڑے۔’ وزیراعظم نے وعدہ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ کے ہر پہلو پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائےگا، کوئی بھی رکن اس پر نکتہ چینی کرسکتا ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں کہ حکومت کسی کے اشارے پر کام کرے گی‘۔
امریکی کانگریس کے اراکین نے وزیرِاعظم من موہن سنگھ کے نام خط میں ایران کے ساتھ بھارت کے رشتوں پر ’گہری تشویش‘ ظاہر کی ہے۔ اس خط میں کہا گيا ہے کہ ہندوستان اور ایران کے درمیان فوجی اور توانائی کا تعاون ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ جوہری سمجھوتے کی منظوری پر ’نقصان دہ اثرات‘ ڈال سکتا ہے۔ یہ تنازعہ ایک ایسے وقت میں پیدا ہوا ہے جب جوہری معاہدے کی منظوری پر بات چیت کے لیے ہندوستان کے خارجہ سکریٹری شیو شنکر مینن امریکہ میں ہیں۔ | اسی بارے میں انڈیا: ایران کو برآمدات پر پابندی22 February, 2007 | انڈیا ایران تنازعے کا حل بات چیت: منموہن06 March, 2006 | انڈیا ’ایران سے معاہدے برقرار ہیں‘28 September, 2005 | انڈیا گيس لائین ایران بھارت بات چیت 03 August, 2005 | انڈیا پائپ لائن پر بات چیت بامعنی رہی13 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||