BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 May, 2007, 21:15 GMT 02:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران سے تعلقات پر نظرِ ثانی کرو‘

امریکی کانگریس مین ٹام لینٹاس
ٹام لینٹاس امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور سے متعلق کمیٹی کے اہم ڈیموکریٹ رکن ہیں
امریکی کانگریس کے بعض اہم ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن ارکان نے بھارتی وزیرِ اعظم کے نام خط میں خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتا ہے تو اسے ایران کے ساتھ اپنے رشتوں پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔

بھارتی وزیرِاعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے نام خط میں امریکی اراکینِ کانگریس نے ایران کے ساتھ بھارت کے رشتوں پر ’گہری تشویش‘ ظاہر کی ہے۔

خط میں دھمکی دی گئی ہے کہ بھارت اور ایران کے درمیان فوجی اور توانائی کے شعبے میں تعاون بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ ایٹمی سمجھوتے کی منظوری پر ’نقصان دہ اثرات‘ ڈال سکتا ہے۔

اس خط پر امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور سے متعلق کمیٹی کے اہم ڈیموکریٹ رکن ٹام لینٹاس اورکمیٹی کے سینیئر ریپبلیکن رکن سمیت سات اراکینِ کانگریس نے دستخط کیے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں کانگریس کے اراکین نے بھارت ایران تعلقات پر اس قسم کے تشویش بھرے خط پہلے بھی بھارتی وزیراعظم کے نام لکھے ہیں۔

لیکن بدھ کے روز روانہ کیے جانے والے اس تازہ خط میں ان کا لب و لہجہ نسبتاً سخت نظرآتا ہے۔

امریکی کانگریس میں ایران کی کٹر مخالف لابی مطالبہ کرتی رہی ہے کہ اگر امریکہ بھارت کے ساتھ عالمی سطح پر ایک نئی پارٹنرشپ کرنے جا رہا ہے تو اس کے لیے بھارت کو ایران کے ساتھ اپنے رشتوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔

کانگریس کے ارکان کی طرف سے بھارت پر دباؤ بڑھانے کی یہ تازہ کوشش ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب بھارت اور امریکہ کے درمیان ایٹمی توانائی کا مجوزہ معاہدہ بعض اختلافی نکات کی وجہ سے تعطل کا شکار نظر آتا ہے۔

گیس پائپ لائین
ایران نےکہا تھا کہ وہ امریکہ کے اعتراض کے باوجودبھارت کے ساتھ قدرتی گیس پائپ لائن کے معاہدے پر قائم رہے گا

اختلافی نکات پر مذاکرات کے لیے بھارتی سیکریٹری خارجہ شیو شنکر مینن نے اس ہفتے واشنگٹن میں اعلی امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ فریقین کا کہنا ہے کہ بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن اختلافی نکات برقرار ہیں۔

بات چیت کا اگلا دور اب دہلی میں ہوگا جس میں شرکت کے لیے مرکزی امریکی مذاکرات کار نکولس نرنس مئی کے آخر میں وہاں پہنچیں گے۔

دونوں حکومتوں کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں اختلافات دور کر کے سمجھوتہ طے کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد