BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 August, 2006, 13:33 GMT 18:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران، انڈیا پائپ لائن پر بات چیت

گیس پائپ لائن
امریکہ ایران پائپ لائن کا مخالف ہے۔
ایران، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان گیس پائپ لائن کے لیئے ممکنہ اخراجات، گیس کی ممکنہ قیمت اور تکنیکی پہلوؤں پر غور کرنے کے لیئے تینوں ملکوں کے اہلکاروں کی ایک میٹنگ دلی ميں شروع ہو گئی ہے۔

تینوں ملکوں کے ورکنگ گروپس کے درمیان بات چیت کا یہ تیسرا دور ہے۔اس سے قبل مئی میں تینوں ممالک کے پٹرولیم سیکریٹریوں کے درمیان بات چیت کا ایک دور اسلام آباد میں ہوا تھا۔

اس وقت ایران نے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کی بنیاد پر قدرتی گیس فراہم کرنے کے لیئے 7.2 امریکی ڈالر فی ملین بی ٹی یو کی قیمت کی پیشکش کی تھی اور ساتھ ہی سالانہ تین فی صد کی شرح سے ان قیمتوں میں اضافے کی بھی تجویز رکھی تھی۔

لیکن ہندوستان صرف 4.25 امریکی ڈالر فی ملین بی ٹی یو دینے کو تیار تھا۔انڈیا چاہتا ہے کہ سرحد تک گیس لانے لیئے گیس کی فی یونٹ قیمت مقرر کر دی جائے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ قیمت کو بین الا قوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں سے کے اتار چڑھاؤ سے منسلک کیا جائے۔

ایران کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کی جانب سے جس نرخ کی پیشکش کی گئی ہے وہ مطلوبہ نرخ کے نصف ہیں۔

دو برس قبل اس گیس پائپ لائن کو پاکستان کے راستے ایران سے ہندوستان لائے جانے سے متعلق باقاعدہ معاہدہ کیا گیا تھا۔

موجودہ معاہدے کے مطابق 2775 کلومیٹر لمبی پائپ لائن ایران سے پاکستان کے راستے ہندوستان کی ریاست راجستھان کے سرحدی علاقے بیکانیر تک آئے گی جہاں سے یہ گیس ہندوستان کو دی جائے گی۔

اس پائپ لائن سے ہرروز تقریباً ایک سو پچاس ملین کیوبک میٹرگیس کی سپلائی ہونے کی بات کہی گئی تھی۔اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ گیس پائپ لائن سے دو ہزار گیارہ میں قدرتی گیس کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔

لیکن یہ پائپ لائن مختلف وجوہات سے تنازعہ کا شکار بن گئی ہے۔امریکہ چاہتا ہے کہ انڈیا اور پاکستان ایران سے کسی بھی طرح کا معاہدہ نہ کریں لیکن دونوں ہی ملکوں نے بار بار اپنے بیان میں یہی کہا کہ گیس پائپ لائن کے معاہدے پر عمل کیا جائے گا ۔

ہندوستان نے پاکستان کے سلسلے میں سلامتی کے خدشات بھی ظاہر کیے تھے جبکہ پاکستان، ہندوستان اور ایران دونوں کو ہی ضمانتیں دینے کی پیشکش کرتا رہا ہے۔

اب تک تینوں ملکوں نے باہمی اور سہ رخی بات چیت کے کئی دور مکمل کیے ہيں لیکن تقریباً ہر مرتبہ بات چیت بغیر کسی نتیجے کے ہی ختم ہوئی ہے۔

معاہدے کے مطابق گیس پائپ لائن بچھانے کا کام دو ہزار سات سے شروع ہونا ہے

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد