BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 August, 2005, 18:59 GMT 23:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گيس لائین ایران بھارت بات چیت

فائل فوٹو
ایران فراخدلی کا اور بھارت احتیاط پسندی کا مظاہرہ کر رہا ہے
ایران نے مجوزہ گیس پائپ لائین پروجیکٹ پر عمل درآمد کے لیے بھارت کے ساتھ ایک ’ٹائم فریم‘ یعنی نظام الوقات پر معاہدے کی پیش کش کی ہے۔ لیکن ہندوستان کا کہنا ہے کہ پائپ لائین کی سکیورٹی کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیے بغیر اس طرح کے یاداشت پر دستخط کرنا قبل از وقت ہوگا۔

گیس لائین پر بات چیت کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ کا ایک ایرانی وفد نئی دلی میں ہے۔ نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بات چیت سے قبل وفد کے ایک رکن آر نیجاد کہا کہ ’ہم نے ایران اور ہندوستان کے درمیان گیس پائپ لائین پر عمل درآمد کے نظام الوقات پر معاہدے کی تجویز پیش کی ہے‘۔

لیکن ایجینسی کے مطابق ہندوستان کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ پائپ لائین کےحوالے سے کئی معاہدے پہلے ہی سے ہیں اور آگے بڑھنے سے قبل پروجیکٹ کی سکیورٹی کے پہلو پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کی تیل اور پیٹرولیم وزارات میں ایک سینئر افسر تلمیذ احمد نے بی بی سی کو بتا یا ہے کہ اس دور کی بات چیت میں کئی اہم امورتبادلہ خیال کیا جائیگا۔

مسٹر تلمیذ نے کہا کہ ’پروجیکٹ پرکام سے پہلے دونوں جانب کے ماہرین کی ایک رپورٹ آنی ہے۔ ہم اس کا مطالعہ کرینگے اور جہاں ضروری ہوا ماہرین سے صلاح و مشورے کے بعد اس میں تبدیلیان بھی کی جائیں گی‘۔

گزشتہ ماہ ہندوستان کے وزیرپٹرولیم منی شنکر ایّر نے ایران میں حکام سے بات چیت کے بعد جوائنٹ ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں گزشتہ دنوں سب سے پہلے پاکستانی ورکنگ گروپ سے نئی دلی میں بات چیت ہوئی تھی۔ فریقین نے بات چیت کو تسلی بخش اور کامیاب بتایا تھا۔

ایرانی وفد کی قیادت ایران کے نائب وزیر پٹرولیم نیجاد حسینیان کر رہے ہیں جبکہ ہندوستانی وفد کے قائد پٹرولیم سکریٹری سشیل ترپاٹھی ہیں۔ بات چیت سے قبل مسٹر حسینیان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’پائپ لائین کی سکیورٹی ایک مسئلہ ہے۔ ہم نے اس پر پہلے بھی بات کی ہے اور اس پر کام بھی ہورہا ہے‘۔ پہلے روز کی بات چیت کے بعد کسی بھی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کا کہنا ہے ہندوستان کی اقتصادی ترقی کے لحاظ سے آئندہ چند برسوں کے بعد اسے دوگنے ایندھن کی ضرورت ہوگی۔ انہیں چیلنجز کا سامنے کرنے کے وہ نۓ وسائل کی تلاش میں ہے۔ ایران سے پاکستان ہوتے ہوئے جس گیس پا‎ئپ لائین پر بات چیت ہورہی ہے اس سے ہرروز تقریباً ایک سو پچاس ملین کیوبک میٹر گیس کی سپلائی ممکن ہو سکے گی۔

لیکن حال ہی میں وزیراعظم منوہن سنگھ نے امریکہ کے دورے پر ایک بیان میں کہا تھا کہ گیس پائپ لائین مشکل کام ہے۔ اس بیان کے بعد اس پراجیکٹ پر شکوک و شبہات کے بادل منڈلا نے لگے ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان جس طرح اس معاملے میں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ اس پرو جیکٹ میں کافی وقت لگ سکتاہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد