BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 May, 2007, 11:23 GMT 16:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری معاہدہ: ہند امریکہ مذاکرات
بھابھا ایٹمی پلانٹ
ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کے باوجود انڈیا کو امریکی ایٹمی ایندھن اور ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو جائے گی
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے پر بات چیت کا ایک اور دور دلی میں جمعرات کو متوقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکہ کے انڈر سیکریٹری آف سٹیٹ نکوملس برنز جمعرات کو دو دن کے دورے پر دلی پہنچ ہے ہیں تا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے تاریخی جوہری معاہدے پر اختلافات ختم کیے جا سکیں۔سویلن مقاصد کے ایک جوہری معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔

اس معاہدے کی ضرورت پر مفاہمت 2005 میں ہوئی تھی لیکن تفصیلات طے نہیں پا سکی تھیں۔

مقامی خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق نکولس برنز ہندوستانی خارجہ سیکریٹری شیوشنکر مینن سے اختلافات کے خاتمہ پر بات کریں گے۔

خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بات چيت پہلے بھی ہوئی تھی لیکن معاہدے میں بعض نکات پر اتفاق نہ ہونے کے سبب اسے ملتوی کر دیاگیا تھا۔

بش، منموہن بات چیت بھی متوقع
 آئندہ ماہ جرمنی میں جی ایٹ ممالک کا ایک اجلاس ہونے والا ہے اس اجلاس میں وزیراعظم منموہن سنگھ اور صدر بش کی ملاقات متوقع ہے اور امید کی جارہی ہے ان دونوں رہنماؤں کے درمیان جوہری معاہدے پر بھی بات چیت ہوگی

جوہری معاہدے میں بعض رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ہندوستان اور امریکہ کے اعلی اہلکاروں کے درمیان گزشتہ اکیس و بائیس مئی کو لندن میں بات چيت ہوئی تھی۔

جوہری معاہدے میں بعض نکات پر دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات ہیں۔

کچھ دن قبل نکولس برنز نے کہا تھا کہ ہندوستان سے جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے نوے فیصد کام پورا ہوچکا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ سے جوہری معاہدے طے پانے کے بعد ہندوستان کی حزب اختلاف پارٹیوں نے یہ تنقید کی تھی کہ موجودہ معاہدے میں بعض ایسی شقیں ہیں جس کی وجہ سے امریکہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں دخل اندازی کر سکتا ہے۔

حالانکہ ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ بار بار اس بات کی یقین دہانی کراتے رہے ہیں کہ ہند امریکہ جوہری معاہدہ ہندوستان کے مفادات کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ آئندہ ماہ جرمنی میں دنیا کے امیر ترین یعنی جی ایٹ ممالک کا ایک اجلاس ہونے والا ہے اس اجلاس میں وزیراعظم منموہن سنگھ اور صدر بش کی ملاقات متوقع ہے اور امید کی جارہی ہے ان دونوں رہنماؤں کے درمیان جوہری معاہدے پر بھی بات چیت ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد