بھارت اور امریکہ کا جوہری معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے ہندوستان کے ساتھ سویلین جوہری تعاون کے باقاعدہ طور پر معاہدہ کر لیا ہے۔ امریکہ کی خارجہ سیکریٹری کونڈولیزا رائس نے کہا یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ 1970 کی دہائی میں ہندوستان کی جانب سے نیوکلیئر تجربہ کے بعد یہ پہلا موقع ہوگاجب اس معاہدے کے نتیجے میں ہندوستان ، امریکہ سےجوہری ایندھن ، اور آلات حاصل کر سکے گا۔ اس کے بدلے میں ہندوستان اپنے سویلين جوہری ریئکٹر بین الاقوامی معائنے کے لیے کھول دے گا۔ اس معاہدے کے تحت ہندوستان اپنی تیزی سے ترقی کر رہی معیشت کے لیے توانائی کی ضرورتوں کو بہت حد تک پورا کرنے ميں کامیاب ہو گا اور اسے ماحول کو آلودہ کرنے والے مزید پاور سٹیشن بنانے کی ضرورت نہیں ہوگي۔ | اسی بارے میں انڈین تنصیبات: عالمی معائنہ کاری08 July, 2006 | انڈیا جوہری معاہدے پر صلاح و مشورہ16 August, 2006 | انڈیا جوہری پروگرام آزاد ہے: منموہن سنگھ18 August, 2006 | انڈیا ’خارجہ پالیسی کسی دباؤ میں نہیں‘12 December, 2006 | انڈیا جوہری معاہدہ آخری مرحلے میں: منموہن18 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||