انڈین تنصیبات: عالمی معائنہ کاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوہری امور کی نگراں کے لیئے اقوام متحدہ کے عالمی ادارے ’آئی اے ای اے‘ اور انڈیا کے اہلکاروں کے درمیان دلی میں جوہری تنصیبات کی معائنہ کاری پر مذاکرات ہوئے ہیں۔ اس بات چيت کا مقصد جوہری تنصیبات کی معائنہ کاری کا طریقۂ کار طے کرنا اور معائنہ کاری کے لیئے بعض ’سیف گارڈز‘ یعنی حفاظتی اقدامات کا تعین ہے۔ بات چیت میں وزارت خارجہ میں جوائنٹ سیکرٹری حامد علی راؤ کے علاوہ نیو کلیائی شعبے کے بعض افسران نے بھی شرکت کی۔ مذاکرات کے اختتام پر وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’گفتگو تعمیری تھی اور فریقین اس سلسلے میں بات چیت کے لیئے دوبارہ ملیں گے‘۔ گزشتہ برس انڈیا اور امریکہ کے درمیان سویلین مقاصد کے لیئے ایک جوہری معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت انڈیا کو اپنی فوجی اور غیر فوجی جوہری تنصیبات کی نشاندہی کرنی تھی۔ جس کے بعد غیر فوجی تنصیبات بین الاقوامی ایٹمی توانائی کے معائنے کے دائرے میں آ جائیں گی۔
دفاعی امور کے ماہر پروفیسر برہم چیلانی کا کہنا ہے کہ ’آئی اے ای اے‘ کے پاس معائنہ کاری کے دو معیار ہیں۔ ایک نیوکلیائی ممالک کے لیئے اور ایک وہ جو نگراں ادارے کے رکن ہیں۔ لیکن چونکہ بھارت ان دونوں کی فہرست میں نہیں ہے اس لیئے ’اس کے لیئےخاص قسم کے اصول و ضوابط وضع کرنے پر بات چیت ہونی ہے‘۔ برہم چیلانی کا کہنا ہے امریکہ نے اس جوہری معاہدے کی منظوری کے لیئے اب شرطیں اور سخت کردی ہیں اور آئی اے ای اے کے ساتھ معائنہ کاری پر معاہدہ آسان بات نہیں ہے۔ ’امریکہ نے اب یہ واضح کردیا ہے کہ بھارت پہلے آئی اے ای اے کے ساتھ معائنہ کاری کا معاہدہ طے کرے پھر جوہری ٹیکنالوجی سپلائی کرنے والے کئی دیگر ممالک کو بھی راضی کرے تب وہ بھارت سے جوہری پابندیاں ہٹائے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ کافی دقت طلب ہے اور سب کو راضی کرنا آسان بھی نہیں ہے۔
مسٹر چیلانی کے مطابق انڈیا کی تقریباً 35 جوہری تنصیبات معائنہ کاری کے دائرے میں آسکتی ہیں۔ بھارت نے امریکہ کو اپنی جوہری تنصیبات کی ایک لسٹ فراہم کی ہے جس میں بائیس جوہری پلانٹز میں سے چودہ سویلین مقاصد کے لیئے دکھائے گئے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آئی اے ای اے کے ساتھ ’سیف گارڈز‘ کے طے ہونے کے بعد ہی اسے امریکی کانگریس میں ووٹ کے پیش کیا جائیگا اس لیئے امکان ہے کہ نگراں ادارے کے افسران کے ساتھ جلد ہی کوئی سمجھوتہ طے پاجائےگا لیکن یہ بات دیکھنے کی ہوگی کہ ادارے کے رکن ممالک بھی اسے تسلیم کرتے ہیں یا نہیں۔ | اسی بارے میں ’جوہری معاہدہ اسلحہ کیلیے نہیں‘22 February, 2006 | انڈیا فرانس اور بھارت کا جوہری معاہدہ20 February, 2006 | انڈیا ’فیصلہ امریکہ نہیں ہم کریں گے‘27 February, 2006 | انڈیا ہندوستان کا جوہری پروگرام 01 March, 2006 | انڈیا انڈیا،امریکہ ’تاریخی‘ معاہدہ02 March, 2006 | انڈیا ہندوستان کی جوہری تنہائی کاخاتمہ02 March, 2006 | انڈیا ایران، روس۔انڈیا بات چیت05 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||