BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 August, 2007, 01:30 GMT 06:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہندامریکہ جوہری معاہدے کوخطرہ
بھارت کی حزب اختلاف کی جماعت اس معاہدے کے حق میں نہیں
امریکہ نے کہا ہے کہ اگر بھارت نےمستقبل میں کوئی جوہری دھماکہ کیا تو امریکہ اور بھارت کے درمیان جوہری شعبے میں تعاون کا معاہدہ ختم ہو جائے گا۔

یہ بات امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان شان میکارمیک نےواشنگٹن میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔

شان میکارمیک نے کہا کہ بھارت اگر جوہری دھماکہ کرتا ہے تو پھر اسے اس معاہدے کے تحت فراہم کیا جانے والا تمام ایندھن اور جوہری ساز و سامان بھی واپس کرنا پڑے گا۔

یاد رہے کہ ایک دن قبل بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے بھارتی پارلیمان میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے باوجود بھارت کو یہ حق حاصل رہے گا کہ وہ جب چاہے جوہری دھماکہ کر سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے یہ بیان دیئے جانے کے بعد بھارت میں حزب اختلاف اور بائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے اس معاہدے کی مخالفت اور بڑھ جائے گی۔

بھارت میں حکمران جماعت کانگریس کو اس معاہدے کے حوالے سے حزب اختلاف اور بائیں بازو سے تعلق رکھنےوالے اپنے اتحادیوں کی طرف سے بھی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

کانگریس کی سربراہی میں قائم مرکزی حکومت کی حمایت کرنے والی بائیں بازو کی کمیونسٹ جماعتیں اس معاہدے کو یکسر مسترد کر چکی ہیں جبکہ حزب اختلاف کی بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس معاہدے کی کئی شقوں پر اختلاف ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے مطابق امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ کرکے حکمران جماعت نے بھارت کے جوہری تجربات کرنے کے حق کو گروی رکھ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا یہ کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے میں ایسی کوئی شق شامل نہیں ہےکہ بھارت مستقبل میں جوہری دھماکہ نہیں کر سکتا۔

مبصرین کے مطابق امریکہ اور بھارت کے درمیان ’ون ٹو تھری‘ جوہری تعاون کا معاہدہ ہایڈ ایکٹ کے تحت کیا گیا ہے۔ ہایڈ ایکٹ کے تحت امریکہ کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر بھارت جوہری دھماکہ کرتا ہے تو پھر وہ بھارت کے ساتھ جوہری تعاون ختم کر دے اور اس معاہدے کے تحت فراہم کیا گیا تمام ایندھن اور جوہری سازو سامان واپس لیے لے۔

امریکہ اور بھارت کے درمیان جوہری شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے دو سال تک مذاکرات جاری رہے جس کے بعد تقریباً دو ہفتے قبل ہی ’ون ٹو تھری‘ معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔

تاہم اس سمجھوتے کی توثیق کے لیے اسے امریکی کانگریس میں ووٹنگ کے لیے پیش کیا جانا باقی ہے۔

بھارت کا جوہری پروگرام بھارتی ایٹمی پروگرام
فوجی مقاصد کیلیے دو ری ایکٹر
نیوکلیئر پروگرامایٹمی تنہائی کاخاتمہ
امریکہ نےانڈیا کوجوہری طاقت مان لیا
دلی ڈائری
ایک لاکھ کی کتاب، گاندھی سمادھی پر کتے
وزیراعظم منموہن سنگھہند امریکہ معاہدہ
جوہری معاہدہ آخری مرحلے میں: منموہن
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد