BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 August, 2007, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی بیان پر پارلیمان میں ہنگامہ

 پرنب مکھر جی
پرنب مکھر جی کے بیان سے ارکانِ پارلیمان مطمئن نہیں ہوئے
ہندوستانی پارلیمان میں امریکی وزارت خارجہ کے اس بیان پر زبردست ہنگامہ ہوا ہے کہ اگر ہندوستان نے جوہری دھماکہ کیا تو جوہری معاہدہ اسی وقت ختم ہو جائےگا۔

ہنگامہ آرائی اور واک آؤٹ کے درمیان حکومت نے ایک بار پھر یقین دہانی کرائی ہے کہ جوہری دھماکہ کرنے کا مکمل اختیار ہندوستان کے پاس ہے اور ہند۔امریکہ جوہری معاہدے سے اس پر کسی طرح کی بھی پابندی عائد نہیں ہوگی۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بدھ کو کہا تھا کہ ’اگر ہندوستان نے کوئی جوہری دھماکہ کیا تو اس سے جوہری تعاون کا معاہدہ ختم کر دیا جائے گا اور سبھی ایندھن اور سازوسامان واپس لے لیا جائےگا‘۔

امریکی وزارت خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب حزب اختلاف اور اتحادی بائیں بازو کی جماعتیں پہلے سے ہی اس معاہدے کو مسترد کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں۔

ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ سویلین جوہری ری ایکٹروں کے لیے ایندھن اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے اس معاہدے سے ہندوستان کے فوجی جوہری پروگرام پر اثر پڑے گا اور ضرورت پڑنے پر وہ مزید جوہری دھماکے بھی نہیں کر سکے گا۔

جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے ہندوستان کا فوجی پروگرام قطعی متاثر نہیں ہوگا۔ وزیر خارجہ پرنب مکھرجی مشتعل ارکان کو مطمئن کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے جو وضاحتی بیان پڑھا اس میں کہا گیا تھا کہ’امریکہ سے کیے گئے باہمی معاہدے میں ایسی کوئی بات شامل نہیں ہے جس سے جوہری دھماکہ کرنے کے لیے مستقبل کی حکومت کے ہاتھ بندھ گئے ہوں‘۔

تاہم ان کے اس بیان سے ارکان مطمئن نہیں ہوئےاور ہنگامہ اور نعرہ بازی کے سبب دونوں ایونوں کی کارروائی کل تک کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔

بی جے پی کے سینئیر رہنما اور سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا کا کہنا تھا کہ اس معاہدے پر مفصل بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا’اس پر کم از کم دو تین دن تک بحث ہونی چاہیے کیونکہ یہ ایک ایسا سمجھوتہ ہے جو ملک کو آئندہ پچاس برسوں تک باندھ دےگا‘۔

حکومت جوہری معاہدے کے بارے میں اپنے موقف پر ثابت قدمی سے جمی ہوئی ہے اور وزیراعظم بھی یہ واضع کر چکے ہیں کہ وہ اس معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ تاہم اب امریکی وزارت خارجہ کے بیان سے حکومت کو یقیناً دفاعی رخ اختیار کرنا پڑا ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے کوئی وضاحتی بیان ہی وزیر اعظم کو اس مشکل سے نکال سکتا ہے۔

بھارت کا جوہری پروگرام بھارتی ایٹمی پروگرام
فوجی مقاصد کیلیے دو ری ایکٹر
نیوکلیئر پروگرامایٹمی تنہائی کاخاتمہ
امریکہ نےانڈیا کوجوہری طاقت مان لیا
دلی ڈائری
ایک لاکھ کی کتاب، گاندھی سمادھی پر کتے
وزیراعظم منموہن سنگھہند امریکہ معاہدہ
جوہری معاہدہ آخری مرحلے میں: منموہن
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد