BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 September, 2007, 14:07 GMT 19:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری معاہدہ، سیاسی تعطل برقرار

بائیں بازو سے بات چیت جاری رہے گی: پرنب مکھرجی
ہند-امریکہ جوہری معاہدے پر اتفاق رائے پیداکرنے کے لیے ہندوستان کے حکمراں اتحاد یو پی اے اور اس کی حمایت کرنے والے ’بائیں محاذ‘ کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ایک اہم میٹنگ بے نتیجہ ختم ہوگئی ہے۔

دارالحکومت نئی دہلی میں بدھ کے روز اس میٹنگ میں حمکراں یو پی اے اور بائيں بازو کی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ حالیہ دنوں میں بائیں بازو کی جماعتوں نے جوہری معاہدے پر اپنے شدید اختلافات کا اظہار کیا ہے۔ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے پر عمل کرنے کے لیے ہندوستان کو اقوام متحدہ کے ایٹمی ادارے آئی اے ای اے سے بھی ایک سمجھوتے پر دستخط کرنا باقی ہے۔

بدھ کے روز میٹنگ کے بعد کمیونسٹ پارٹی کے رہمنا اے بی بردھن نے دہلی میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ گزشتہ ’سترہ تاریخ کو حکومت کی جانب سے ایک نوٹ دیا گیا تھا اور آج ہم نے ایک نوٹ دیا ہے، انہيں دونوں نوٹس پر بات چیت ہوئی ہے۔‘ خیال کیا جاتا ہے کہ حکومت نے اپنے نوٹ میں بائیں بازو کے اختلافات کو دور کرنے کی کوشش کی تھی۔

اے بی بردھن نے نامہ نگاروں کے سامنے نوٹس کی تفیصلات تو ظاہر نہیں کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ کہ حکومت کو کسی بھی صورت میں جوہری معاہدے کو عمل میں لانے میں جلد بازی نہيں کرنی چاہیے۔

’ہندوستان پر امریکی دباؤ‘
 بدھ کو ہونے والی میٹنگ ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکی حکام نے ہندوستان سے معاہدے کو وقت پر پورا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ جبکہ منگل کو معاہدے کی مخالفت میں منعقدہ ایک احتجاجی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما پرکاش کرات نے کہا تھا کہ حکومت جوہری معاہدے سے متعلق آگے کی کارروائی پر آئندہ چھ مہینے تک عمل نہ کرے۔
دوسری جانب کانگریس کے رہنما اور وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے بتایا کہ ہند۔امریکہ معاہدے پر یو پی اے اور بائيں بازو کی جماعتوں کی جانب سے دیے گئے خدشات پر بات چیت ہوئی ہے اور میٹنگ کا اگلا دور پانج اکتوبر کو ہوگا۔

اس میٹنگ سے قبل بائيں بازو کی سبھی جماعتوں نے آپس میں بات چیت کرنے کے بعد کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے ان کے خدشات کے جو جوابات دیے گیے ہیں وہ اسے منظور نہیں کرتے ہیں۔

بدھ کو ہونے والی میٹنگ ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکی حکام نے ہندوستان سے معاہدے کو وقت پر پورا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ جبکہ منگل کو معاہدے کی مخالفت میں منعقدہ ایک احتجاجی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما پرکاش کرات نے کہا تھا کہ حکومت جوہری معاہدے سے متعلق آگے کی کارروائی پر آئندہ چھ مہینے تک عمل نہ کرے۔

ریلی کو خطاب کرتے ہوئے مسٹر کرات نے دہرایا تھا کہ فی الوقت مرکزی حکومت ان کی حمایت کے سبب برسر اقتدار ہے اور اگر حکومت نے ان کی نہیں سنی تو اس کےدوررس نتائج ہوں گے جو بائيں بازو کی جماعتیں نہیں چاہتیں۔

کمیونسٹ جماعتیں وزیراعظم کی حکومت کی باہر سے حمایت کر رہی ہیں اور اگر یہ حمایت واپس لے لیں تو حکومت اقلیت میں آجائے گی۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پیر کو مغربی بنگال کے وزیر اعلی اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما بدھ دیو بھٹاچاریہ نے کولکاتا میں کہا تھا کہ جوہری توانائی کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس بیان کو سیاسی حلقوں میں بائیں محاذ کی درمیان اختلافات سے تعبیر کیا گیا ہے۔

ادھر خبررساں ایجنسیوں کے مطابق جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ا‏ی اے کے سربراہ البرادعی نے ویانا میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ہند-امریکہ جوہری معاہد بالکل صحیح سمت میں اٹھایا گيا قدم ہے اور اس معاہدے سے کروڑوں افراد کو ایسی توانائی فراہم ہوگی جو ماحولیات کے لیے مناسب ہوگی۔

اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی ایجنسی ہندوستان کی حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں بات چیت کی شروعات کا انتظار کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اس سلسلے میں بھارتی حکومت نے رابطہ قائم نہیں کیا ہے تاہم ہندوستان کے جوہری توانائی کمیشن کے چیئرمین فی الوقت ویانا میں موجود ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد