BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 August, 2007, 17:23 GMT 22:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری معاہدہ پر اختلاف گہرے
بائیں بازو کی جماعتیں شروع سے اس معاہدے کے خلاف ہیں
ہندوستان میں حکمراں کانگریس اور حکومت کی حامی بائيں بازو کی جماعتوں کے درمیان ہند امریکہ جوہری معاہدے کے سبب رشتوں ميں دراڑ آ گئی ہے۔ بائيں بازو کی جماعتوں نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ اس معاہدے کو منظور نہیں کر سکتے اور حکومت کو آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔

سنیچر کو بائيں بازو کی جماعتوں کے رہنماؤں نے ہند امریکہ غیر فوجی جوہری معاہدے پر بات چیت ختم کرنے کے بعد وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

ملاقت میں وزیر اعظم کے علاوہ حکمراں ’یو پی اے‘ کی صدر سونیا گاندھی اور وزیر خارجہ پرنب مکھرجی بھی موجود تھے۔

وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے ایک نیوز کانفرنس میں ایک بار پھر واضح کیا کہ بائیں بازو کا محاذ اپنے فیصلے پر قائم ہے اور انہیں یہ معاہدہ منظور نہیں ہے۔

مسٹر کارت نے یہ بھی کہا کہ جب تک امریکی کانگریس سے منظور کیے گئے ہائڈ ایکٹ کا پوری طرح سے جائزہ نہیں کر لیا جائے تب تک حکومت کو آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ معاہدے کے اگلے قدم کے طور پر حکومت کو جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی آئی اے ای اے کے ساتھ سیف گارڈ سے متعلق سمجھوتہ کرنا ہے۔

مسٹر کارت نے مزید کہا کہ پارلمینٹ میں ایسے لوگ اکثریت میں ہیں جو اس معاہدے کی حمایت نہیں کرتے ہيں ، اس لیے جمہوری طریقہ یہی ہو گا کہ جب تک پوری طرح سے شک و شبہات دور نہ کر لیے جائيں اس معاہد کو روکنے کی ضرورت ہے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ حکومت سے حمایت واپس لینے کے بارے ميں کیا فیصلہ کیا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی بات کانگریس کے سامنے رکھ دی ہے اور فیصلہ اس کےہاتھوں میں ہے۔

یہ معاملہ اس وقت پیچیدہ صورت اختیار کرگیا تھا جب وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایک اخبار کو انٹرویو ميں کہا تھا کہ ہند امریکہ جوہری معاہدے سے حکومت اب پیچھے نہیں ہٹے گی اور اگر بائيں بازو کی جماعتیں اپنی حمایت واپس لینا چاہتی ہے تو لے لیں ۔

بائيں بازو کی جماعتیں شروع سے ہی اس معاہدے کی مخالفت کر رہی ہیں ۔ یوں تو بائيں بازو کی جماعتوں اور حکومت کے درمیان کئی مرتبہ رشتے تلخ ہوئے ہيں لیکن اس بار حالات نازک موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الوقت نہ تو حکومت اور نہ ہی بايئں بازو کا محاذ عام انتخابات کے لیے تیار ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد