BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 August, 2007, 13:44 GMT 18:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معاہدہ: خدشات دور کرنے کی کوشش
منموہن سنگھ کی حکومت کے لیے مشکل؟
اتوار کو بھارت کی حکمران جماعت کانگرس پارٹی کے سینیئر رہنماؤں اور حکومتی اتحاد یو پی اے کے درمیان مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے بائیں بازو کے خدشات کو دور کرے گی۔

کانگرس پارٹی اور یو پی اے کے رہنماؤں کے درمیان ملاقاتوں اور مذاکرات کا سلسلہ دن بھر جاری رہا جس کے بعد کانگریس کے سینئر رہنما اور وزیرِ خارجہ پرنب مکھر جی نے حکومتی اتحاد کی جانب سے ایک بیان صحافیوں کو پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ یو پی اے کی قیادت امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے ضمن میں بائیں بازو کی جماعتوں کے ’جائز‘ اعتراضات کا حل نکالے گی۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یو پی اے سونیا گاندھی کی قیادت پر مکمل اعتماد کرتی ہے اور اسے امید ہے کہ حکومت بین الاقوامی سطح پر ملکی مفادات کے لیے بہترین حکمتِ عملی اختیار کرے گی۔

بعض خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ کانگریس نے یو پی اے اور بائیں بازو کے سینئر اراکین پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کی پیش کی ہے جو بھارت امریکہ جوہری معاہدے کے حوالے سے بائیں بازو کے خدشات کا حل نکالے۔

اتوار کو بائیں بازو کی جماعتوں نے پھر سے واضح کر دیا ہے کہ وہ جوہری معاہدے پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ منموہن حکومت کو بائیں محاذ کی اتحادی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔

جوہری معاہدے پر بائیں محاذ اور حکمران اتحاد میں اختلافات اتنے شدید ہوگئے ہیں کہ حکومت سیاسی بحران کا شکار ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے دارالحکومت دلی میں زبردست سیاسی گہما گہمی جاری ہے۔

اتوار کی صبح کانگریس کے سینئر رہنما پرنب مکھرجی نے لیفٹ پارٹی کے رہنما سیتا رام یچوری سے ملاقات کی ہے لیکن بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ملاقات کے بعد مسٹر یچوری نے بتایا: ’ اس پر مفاہمت کا کوئی فارمولا نہیں ہے اور اب یہ کانگریس پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے۔‘

منموہن حکومت کو خطرہ؟
 ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات کے لیے تیار ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے رہنما امر سنگھ اور تیلگو دیشم پارٹی کے سربراہ چندرا بابو نائیڈو نے مارکسی پارٹی کے جنرل سکریٹری پرکاش کرات سے بات چیت کی ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے اس بارے میں پیر کو ایک اور میٹنگ طلب کی ہے

مسٹر یچوری کا کہنا تھا کہ جوہری معاہدے کے بارے میں بائیں محاذ نے اپنی پوزیشن واضح کردی ہے اور اب یہ حکومت پر ہے کہ وہ اس بارے میں ان کی تشویش کو دور کرے۔ بائیں محاذ نے اس مسئلے پر اپنا سخت مؤقف دہراتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے : ’ اگر معاہدے پر عمل ہوا تو سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔‘

ملاقات سے قبل پرنب مکھرجی نے کہا: ’ ہم سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں، کئی جانب سے بات چیت ہو رہی ہے، دیکھتے ہیں بات آگے کیسے بڑھتی ہے۔‘ مسٹر مکھرجی کے ساتھ وزیر دفاع اے کے اینٹنی اور سونیا گاندھی کے سیاسی صلاح کار احمد پٹیل بھی تھے۔

بائیں محاذ کے سخت رویہ سے تمام سیاسی جماعتیں حرکت میں آگئی ہیں۔

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی صدارت میں بھی پارٹی کی ایک اہم میٹنگ ہوئی جس کے بعد حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کی بھی ایک میٹنگ ہونے والی ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تمام بڑے کانگریسی رہنما پارٹی کی حکمت عملی طے کرنے میں مصروف ہیں۔

ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات کے لیے تیار ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے رہنما امر سنگھ اور تیلگو دیشم پارٹی کے سربراہ چندرا بابو نائیڈو نے مارکسی پارٹی کے جنرل سکریٹری پرکاش کرات سے بات چیت کی ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے اس بارے میں پیر کو ایک اور میٹنگ طلب کی ہے۔

پیر سے پارلیمنٹ میں جوہری معاہدے پر بحث بھی شروع ہوگی۔ حالانکہ اس بحث پر ووٹنگ نہیں ہوگی لیکن اکثریت کی مخالفت کے سبب حکومت کی سبکی ضرور ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد