BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 August, 2007, 12:37 GMT 17:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آسٹریلیا کا پابندی اٹھانےکا فیصلہ
جوہری پلانٹ
انڈیا جوہری ایندھن کے لیے بے چین ہے (فائل فوٹو)
آسٹریلیا نے بھارت کو یورینیم کی برآمد پر لگی ہوئی پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس طرح آسٹریلیا اس قانون کو ختم کر رہا ہے جس کے تحت ان ممالک کو یورینیم برآمد کرنے پر پابندی تھی جنہوں نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

آسٹریلیا کی حزب مخالف نے پابندی ختم کرنے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ اس سال ہونے والے قومی انتخابات میں کامیاب ہوتی ہے تو اس قسم کی کسی بھی ڈیل کو روکنے کی کوشش کرے گی۔

واضح رہے کہ دنیا کے یورینیم کے تمام ذخائر کا چالیس فی صد آسٹریلیا کے پاس ہے۔

انڈیا جوہری ایندھن کے لیے بے چین ہے اور اور آسٹریلیا کے پاس قدرتی وسائل کا خزانہ ہے لیکن دونوں ممالک کے درمیان کوئی جوہری معاملہ اس وجہ سے ناممکن رہا ہے کہ آسٹریلیا اپنے اس فیصلے پر قائم رہا ہے کہ وہ معاہدہ پر دستخط نہ کرنے والے ممالک کو جوہری ایندھن نہیں دے گا۔

تاہم اس پابندی کو ختم کرنے کے فیصلے کے بعد اب توقع کی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم جون ہاورڈ جلد ہی بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے بات چیت کریں گے اور دونوں ملکوں کے درمیان مستقبل میں ہونے والے سودے کی شرائط کی وضاحت کریں گے۔

 دوسری جانب بھارت کے علاوہ آسٹریلیا چین کے ساتھ بھی جوہری ایندھن کی ڈیل پر بات چیت کر رہا ہے لیکن آسٹریلیا پاکستان کو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں ملوث ہونے کی وجہ سے یورینیم فراہم نہیں کرے گا

مجوزہ شرائط میں یہ بات شامل ہو گی کہ بھارت کو یورینیم صرف غیر فوجی ضروریات کے لیے دیا جائے گا اور جوہری معائنہ کاروں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ دیکھ سکیں کہ بھارت اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال تو نہیں کر رہا۔

آسٹریلیا کی پالیسی میں اس تبدیلی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت کو یورینیم کی فراہمی کے لیے مذکورہ شرائط کافی نہیں ہیں اور یہ کہ اس سے نہ صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوگا بلکہ بھارت اور چین کے درمیان بھی جوہری مقابلہ بازی کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب بھارت کے علاوہ آسٹریلیا چین کے ساتھ بھی جوہری ایندھن کی ڈیل پر بات چیت کر رہا ہے لیکن آسٹریلیا پاکستان کو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں ملوث ہونے کی وجہ سے یورینیم فراہم نہیں کرے گا۔

آسٹریلیا میں حزب مخالف کی جماعت لیبر پارٹی کو انتخابات سے پہلے حالیہ انتخابی تخمینوں یا الیکشن پول میں برتری حاصل ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں وہ بھارت کے ساتھ جوہری ڈیل کو روکے گی۔

بھارت کو یورینیم کی فراہمی کے عمل میں ابھی خاصا وقت لگے گا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات کے آغاز سے قبل بین الاقوامی جوہری ادارے کی جانب سے اس کی منظوری ضروری ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کو ابھی امریکہ کے ساتھ ہونے والے جوہری تعاون کے معاہدے پر بھی باقاعدہ دستخط کرنا ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد