BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 August, 2007, 22:48 GMT 03:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری معاہدہ، کمیٹی کی تشکیل

گزشتہ ہفتے ایل کے اڈوانی نے جوہری معاہدے کو ملک کے مفاد میں قرار دیا تھا
انڈیا اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزير خارجہ پرنب مکھرجی نے ایک بیان میں کہا کہ ’ کمیٹی کی سفارشات کی بعد ہی معاہدے کا نفاذ ہوگا۔ کمیٹی کے اجلاس میں کون کون شامل ہو گا اس کی تفصیلات جلد ہی بتائي جائیں گی۔

بائیں بازوں کے ایک رہنما دیوبرت بسواس کا کہنا ہے کہ ’حکومت نے بائیں بازوں کی تشویش کو ذہن میں رکھتے ہوئے کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے‘۔

بائیں محاذ نے ہند امریکہ جوہری معاہدے کے ون ٹو تھری اگریمنٹ کے سامنے آنے کے بعد اعتراض کیا تھا اور انکا مطالبہ تھا کہ حکومت امریکہ کے ساتھ کسی بھی حتمی مفاہمت پر پہنچنے سے پہلے ایک بار معاہدے پر غور کرے۔

بائیں بازوں کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ معاہدے میں بعض ایسی شرائط شامل ہیں جس سے ملک کی خارجہ پالیسی میں امریکہ کی دخل اندازی صاف نظر آتی ہیں اور یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔

کمیونسٹ جماتوں نے اپنا احتجاج اس وقت تیز کردیا تھا جب وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایک انٹریو میں یہ بیان دیا کہ بائیں بازوں کی جماعتوں کو اگر معاہدے پر کوئي اعتراض ہے تو حکومت سے اپنی حمایت واپس لے سکتے ہیں لیکن حکومت معاہدے سے واپس نہیں ہٹے گي۔

گزشتہ تین ہفتوں سے بائیں محاذ کی جماعتوں کے اعتراض کے سبب ملک کا سیاسی ماحول کافی گرم تھا اور یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ اگر حکومت نے کمیونسٹ جماعتوں کا مطالبہ نہیں مانا تو تو وہ اپنی حمایت واپس لے سکتی ہیں۔

لیکن حکومت نے بار بار یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ بات چیت سے تعطل کو حل کرنے کی کوشش کرے گي اور جمعرات کے روز یہ اعلان کردیا کہ جوہری معاہدے کا ازسر نو جائزہ لینے کے لے کمیٹی باہمی معاہدے کی بعض شرائط کا جائزہ لے گي۔

بائیں بازوں کی جماعتوں کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی معاہدے کی سخت مخالفت کی تھی۔ لیکن اس ہفتے کے شروع میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما ایل کے اڈوانی نے کہا کہ معاہدہ ملک کے مفاد میں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد