BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 31 August, 2007, 21:20 GMT 02:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیچھے نہیں رہے سکتے: منموہن
حکومت نے بائيں بازو کی جماعتوں کا مطالبہ منظور کرتے ہوئے ہند امریکہ معاہدے کے جائزے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا
ہندوستان کے وزير اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ ہندوستان عالمی سطح پر جوہری توانائی میں ہونے والی ترقی میں پیچھے نہیں رہ سکتا۔

وزیر اعظم نے یہ بات جمعہ کو ریاست مہاراشٹر میں تارا پور نیوکلیئر سینٹر میں دو ری ایکٹرز کے افتتاح کے موقع پر کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان جیسے ایک ارب کی آبادی والے ملک کی توانائی کو ضرورتوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اس کے لیے جوہری توانائی کی طرف رخ کرنا لازمی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی آئی اے ای اے سے منظوری ملنے کے بعد بھارت، امریکہ ، روس ، جاپان اور فرانس جیسے ممالک سمیت این ایس جی گروپ کے تمام 45 ممبر کی حمایت حاصل کر سکے گا۔

مسٹر سنگھ کا یہ بیان اس لحاظ سے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ ملک میں ہند امریکہ جوہری معاہدے سے متعلق حکومت اور اس کی اتحادی بائيں بازو کی جماعتوں کے درمیان تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔

جمعرات کو اس تنازعہ کے حل کے لیے حکومت نے بائيں بازو کی جماعتوں کے مطالبے کو منظور کرتے ہوئے اس معاہدے کے جائزے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔

ہند، امرکہ جوہری معاہدے کے تحت بھارت کو جوہری ایندھن اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس نیوکلیئر ری ایکٹرز تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔ لیکن بائيں بازو کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے سبب ملک کی خارجہ پالسی کی خودمختاری خطرے میں پڑ جائے گي۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد