سونیا کے بیان سے بایاں محاذ برہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی حکمراں جماعت کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی جانب سے جوہری معاہدے کی مخالفت کرنے والوں کو کانگریس اور ملک کے دشمن قرار دیے جانے کے بعد کانگریس اور بائیں محاذ کےاختلافات مزید گہرے ہوگئے ہيں۔ اتوار کو ریاست ہریانہ کے جھجھر علاقے میں ایک عوامی اجلاس کے دوران سونیا گاندھی نے بائیں محاذ کا نام لیے بغیر ہند۔امریکہ جوہری معاہدے کی مخالفت کرنے والوں پر شدید نکتہ چینی کی تھی۔ سونیا گاندھی کا کہنا تھا کہ’ملک کی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے توانائی کی پیداوار میں اضافہ کرنا ضروری ہےاور توانائی کی ضرورت کے پیش نظر امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا گیا ہے‘۔ بائیں محاذ نے سونیا گاندھی کے بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ملک میں ضمنی انتخاب ہوتے ہيں تو اس کی لیے کانگریس ذمہ دار ہوگی۔بائیں محاذ نے واضح کیا ہے کہ اس نے معاہدے سے متعلق اپنا اصولی فیصلہ کیا ہے اور وہ اس سے پیچھے ہٹنے والے نہيں۔ محاذ کی طرف سے جاری کیے گیے ایک بیان میں کہا گيا ہے’بایاں محاذ قطعی طور پر بتا دینا چاہتا ہے کہ امریکہ سے جوہری معاہدہ ملک کے مفادات کے خلاف ہے۔ جو اس معاہدے کی حمایت کررہے ہيں انہيں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان خودانحصاری کی بنیاد پر جوہری توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘۔ محاذ نے سونیا کے بیان کو کھوکلا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے صرف بیس ہزار میگا واٹ بجلی کا اضافہ ہوگا جو ضرورت سے کافی کم ہے۔ بایاں محاذ کے برہمی کی وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ سنیچر کو وزیر اعظم کی رہائشگاہ پر ہونے والی افطار پارٹی ميں سونیا گاندھی نے ایک غیر رسمی بات چيت میں نامہ نگاروں سے کہا تھا کہ اگر وقت سے پہلے ملک ميں عام انتخاب ہوتے ہيں تو کانگریس اس کے لیے تیار ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ معاہدے میں بعض ایسی شرائط شامل ہیں جس سے ملک کی خارجہ پالیسی میں امریکہ کی دخل اندازی صاف نظر آتی ہے اور یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ کمیونسٹ جماعتوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومت جوہری معاہدے پر عمل کے لیے قدم اٹھائے گی تو وہ حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لیں گے۔ بائیں محاذ کی شدید مخالفت کے بعد حکومت نے معاہدے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ حکومت اور بائیں محاذ کے درمیان جاری ہند امریکہ جوہری معاہدے سے متعلق مذاکرات ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہےکہ سونیا گاندھی کے تازہ بیان سے یہ بالکل واضح ہے کہ کانگریس نے بائیں محاذ سے مصالحت کا راستہ بند کر دیا ہے اور اب وہ انتخابات کے لیے خود کو تیار کر رہی ہے۔ |
اسی بارے میں ’معاہدے کے مخالف ترقی کے دشمن‘07 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، سیاسی تعطل برقرار19 September, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ: کمیٹی کا اجلاس11 September, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، کمیٹی کی تشکیل30 August, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ پر اختلاف گہرے18 August, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، بائیں محاذ کا اجلاس 17 August, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ اور سیاسی کشمکش 11 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||